ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 306

ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ جس قدر ثبوت اور دلائل اور مل سکیں وہ اچھا ہے۔اسی مقصد کے لیے یہ تقریب پیش آئی ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو نصیبین کی طرف بھیجتے ہیں۔جس کے متعلق ہمیں پتا ملا ہے کہ وہاں کے حاکم نے حضرت مسیح کو (جبکہ وہ اپنی ناشکرگزار قوم کے ہاتھ سے تکلیفیں اٹھا رہے ہیں) لکھا تھا کہ آپ میرے پاس چلے آئیں اور واقعہ صلیب سے بچ جانے کے بعد اس مقام پر پہنچ کر انہوں نے بدقسمت قوم کے ہاتھ سے نجات پائی۔وہاں کے حاکم نے یہ بھی لکھا تھا کہ آپ میرے پاس آجائیں گے تو آپ کی خدمت کی سعادت حاصل کروں گا اور میں بیمار ہوں میرے لیے دعا بھی کریں اگرچہ یہ ایک انگریزی کتاب سے ہمیں معلوم ہوا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ روضۃ الصفا جو ایک اسلامی تاریخ ہے اس قسم کا مفہوم اس سے بھی پایا جاتا ہے۔اس لیے یہ یقین ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نصیبین میں ضرور آئے اور اسی راستہ سے وہ ہندوستان کو چلے آئے ہیں۔سارا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن ہمارا دل گواہی دیتا ہے کہ اس سفر میں انشاءاللہ حقیقت کھل جائے گی اور اصل معاملہ صاف ہو جائے گا۔ممکن ہے کہ اس سفر میں ایسی تحریریں پیش ہو جاویں یا ایسے کتبے نکل آویں جو مسیح علیہ السلام کے اس سفر کے متعلق بعض امور پر روشنی ڈالنے والے ہوں یا حواریوں میں سے کسی کی قبر کا کوئی پتا چل جاوے یا اور اس قسم کے بعض امور نکل آویں جو ہمارے اس مقصد میں مؤیّد ثابت ہو سکیں اس لئے میں نے اپنی جماعت میں سے تین آدمیوں کو اس سفر کے لئے طیار کیا ہے۔ان کے لئے ایک عربی تصنیف بھی میں کرنی چاہتا ہوں جو بطور تبلیغ کے ہو اور جہاں جہاں وہ جاویں اس کو تقسیم کرتے رہیں۔اس طرح پر اس سفر سے یہ بھی فائدہ ہوگا کہ ہمارے سلسلہ کی اشاعت بھی ہوتی جاوے گی۔ایک مخلص اور وفا دار جماعت اور میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک مخلص اور وفادار جماعت عطا کی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جس کام اور مقصد کے لئے میں ان کو بلاتا ہوں نہایت تیزی اور جوش کے ساتھ ایک دوسرے سے پہلے اپنی ہمت اور توفیق کے موافق آگے بڑھتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ان میں ایک صدق اور اخلاص پایا جاتا ہے میری طرف سے کسی امر کا اشارہ ہوتا ہے اور وہ تعمیل کے لئے طیار۔