ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 254

پیشگوئیوں مثل پیشگوئی متعلقہ لیکھرام وغیرہ کے متعلق ہیں وہ دور ہو جاویں اور ان پر اصل حقیقت کا انکشاف ہو جاوے۔مقدمہ کلارک میں رام بھجدت وکیل آریہ تھا۔جب امرت سر کے سٹیشن پر مجھ سے ملا تو اس نے صاف کہا کہ میں بلا فیس اس مقدمہ میں اس لیے گیا تھا کہ شاید قتل لیکھرام کا کوئی سراغ ملے کیونکہ اس کے قتل کا یقین ہم کو آپ پر تھا۔ایسا ہی اور اقوام کو ایسا خیال ہو سکتا ہے۔پس اس خواب سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان پر اصل حقیقت کھول کر حجتِ ملزمہ قائم کردے۔پھر فرمایا کہ پٹی والے جو اشتہار دکھائے گئے تھے اس میں بھی یہی تھا کہ وہ لوگ خود چھپوا رہے ہیں۔پیشگوئی کی عظمت اس پر مولانا مولوی نورالدین صاحبؓ نے فرمایا کہ جب وہ اَمر پورا ہوگا۔جس قدر عظمت اور قدر ہم کو ہوگی اور لوگوں کو کہاں۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ کیسے مشکلات درپیش ہیں۔حضرتؑ نے فرمایا کہ بیشک صرف اسی میں نہیں بلکہ ہر دعا اور پیشگوئی کی عظمت اور قبولیت میں یہی حال ہوتا ہے۔مثلاً اگر کسی لق و دق میدان میں جہاں ہزارہا کوس تک پانی نہیں ملتا کوئی شخص دعا کرے اور خدا تعالیٰ اپنے فضل سے اسے پانی کا پیالہ عطا کرے تو اس امر کو مجمل طور پر ان مشکلات اور لوازمات کو نظر انداز کرکے بیان کیا جاوے تو لوگ جو کل حالات پر آگاہ نہیں بجائے عظمت کے ہنسی کریں گے مگر جب مشکلات سے واقف ہوں تو پھر ایک خاص عظمت اور ہیبت سے اس کو دیکھیں گے۔ایسا ہی اگر کوئی ناخواندہ اور اُمّی آدمی انگریزی کی کتاب پڑھ جاوے تو اس کی اُمّیت سے واقف لوگ اسے عظمت کی نگاہ سے دیکھیں گے مگر ایک ایم۔اے اور بی۔اے اگر اس کتاب کو پڑھ جاوے تو چنداں کیا بالکل وقعت نہ دیں گے معمولی امر خیال کریں گے۔غرض ہر ایک امر کی عظمت اور عدم عظمت اس کے حصول کے لوازمات اور مشکلات پر ہوتی ہے۔تیس ہزار دعاؤں کی قبولیت پھر فرمایا کہ لوگ اس امر کو بھی جھوٹ جانیں گے جو ہم نے لکھ دیا ہے کہ میری تیس ہزار دعائیں کم از کم قبول ہوئی ہیں مگر میرا خدا خوب جانتا ہے کہ یہ سچ ہے اور اس