ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 253

سے بعض باتیں ایسی کہہ دیتے ہیں کہ ان کا کچھ نہ کچھ حصہ ٹھیک ہوتا ہے اور ایسا ہی تاریخ ہم کو بتلاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی کاہن لوگ تھے جو غیب کی خبریں بتلاتے تھے چنانچہ سطیح بھی ایک کاہن تھا، مگر ان اٹکل باز رَمّالوں اور کاہنوں کی غیب دانی اور مامور من اللہ اور ملہم کے اظہار غیب میں یہ فرق ہوتا ہے کہ ملہم کا اظہار غیب اپنے اندر الٰہی طاقت اور خدائی ہیبت رکھتا ہے چنانچہ قرآن کریم نے صاف طور پر فرمایا ہے لَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ (الـجن:۲۸،۲۷) یہاں اظہار کا لفظ ہی ظاہر کرتا ہے کہ اس کے اندر ایک شوکت اور قوت ہوتی ہے۔چوتھا نشان قرآن کریم کے دقائق اور معارف کا ہے کیونکہ معارف قرآن اس شخص کے سوا اور کسی پر نہیں کھل سکتے جس کی تطہیر ہو چکی ہو۔لَا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۠ (الواقعۃ:۸۰) میں نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ میرے مخالف بھی ایک سورۃ کی تفسیر کریں اور میں بھی تفسیر کرتا ہوں۔پھر مقابلہ کر لیا جاوے مگر کسی نے جرأت نہیں کی۔محمد حسین وغیرہ نے یہ تو کہہ دیا کہ ان کو عربی کا صیغہ نہیں آتا اور جب کتابیں پیش کی گئیں تو بودے اور رکیک عذر کر کے ٹال دیا کہ یہ عربی تو اربی کچالو ہے مگر یہ نہ ہوسکا کہ ایک صفحہ ہی بنا کر پیش کردیتا اور دکھا دیتا کہ عربی یہ ہے۔غرض یہ چار نشان ہیں جو خاص طور پر میری صداقت کے لیے مجھے ملے ہیں۔۴۷؎ ۳؍اکتوبر ۱۸۹۸ء ایک رؤیا ۳؍اکتوبر کی صبح کو بعد نماز فجر فرمایا کہ رات کو بعد تہجد لیٹ گیا تو تھوڑی سی غنودگی کے بعد دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ’’سرمہ چشم آریہ‘‘ کے چار ورق ہیں اور کوئی کہتا ہے کہ آریہ لوگ اب خود اس کتاب کو چھپوا رہے ہیں۔تعبیر میں فرمایا کہ شاید اس سے یہ مراد ہو کہ آریہ لوگوں کو جو بعض حجاب اور وساوس ہماری