ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 219

تو عذاب ٹلادیا اور رحمت کے ساتھ ان پر نگاہ کی۔پس خدا کے تلون میں بھی ایک خاص لطف ہے مگر اس کو وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو اس کے سامنے روتے اور عجز و نیاز ظاہر کرتے ہیں۔مجھے بارہا تعجب آتا ہے کہ لوگ اپنے جیسے انسان کی خوشامد تو کرتے ہیں مگر افسوس خدا کی خوشامد نہیں کرتے۔قبولیت دعا میں توقّف کامیابی کا موجب ہے یہ یاد رکھو کہ دعا کے لئے اگر جلدی جواب مل جاوے تو عموماً اچھا نہیں ہوتا۔پس دعا کرتے ناامید نہ ہو۔دعا میں جس قدر دیر ہو اور اس کا بظاہر کوئی جواب نہ ملے تو خوش ہو کر سجدہ ہائے شکر بجا لاؤ کیونکہ اس میں بہتری اور بھلائی ہے۔توقف کامیابی کا موجب ہوتا ہے۔یونس علیہ السلام کی قوم سے عذاب ٹلنے کی وجہ دعا بہت بڑی سپر کامیابی کے لئے ہے۔یونس علیہ السلام کی قوم گریہ و زاری اور دعا کے سبب آنے والے عذاب سے بچ گئی۔میری سمجھ میں محاوتت مغاضبت کو کہتے ہیں اور حُوت مچھلی کو کہتے ہیں اور نُون تیزی کو بھی کہتے ہیں اور مچھلی کو بھی۔پس حضرت یونس ؑ کی وہ حالت ایک مغاضبت کی تھی۔اصل یوں ہے کہ عذاب کے ٹل جانے سے ان کو شکوہ اور شکایت کا خیال گزرا کہ پیش گوئی اور دعا یوں ہی رائیگاں گئی اور یہ بھی خیال گزرا کہ میری بات پوری کیوں نہ ہوئی۔پس یہی مغاضبت کی حالت تھی۔اس سے ایک سبق ملتا ہے کہ تقدیر کو اللہ بدل دیتا ہے اور رونا دھونا اور صدقات فرد قرارداد جرم کو بھی ردّی کر دیتے ہیں۔اصول خیرات کا اسی سے نکلا ہے۔یہ طریق اللہ کو راضی کرنے کے ہیں۔علم تعبیر الرؤیا میں مال کلیجہ ہوتا ہے۔اسی لئے خیرات کرنا جان دینا ہوتا ہے۔انسان خیرات کرتے وقت کس قدر صدق و ثبات دکھاتا ہے اوراصل بات تو یہ ہے کہ صرف قیل و قال سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ عملی رنگ میں لا کر کسی بات کو نہ دکھایا جاوے۔صدقہ اس کو اسی لئے کہتے ہیں کہ صادقوں پر نشان کر دیتا ہے۔حضرت یونسؑ کے حالات میں در منثور میں لکھا ہے کہ آپ نے کہا کہ مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ جب تیرے سامنے کوئی آوے گا تجھے رحم آجائے گا ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چہ کنم #