ملفوظات (جلد 1) — Page 218
ہے اور اس کی اندرونی تعلیم اور تربیت کا ذمہ دار ہوتا ہے بشرطیکہ راستباز ہو۔اگر ریاکار اور دھوکاباز ہو تو وہ دشمن سے بھی بدتر ہوتا ہے۔۳۵؎ فروری ۱۸۹۸ء کثرت ازدواج کثرت ازدواج کے متعلق صاف الفاظ قرآن کریم میں دو دو، تین تین، چار چار کرکے ہی آئے ہیں مگر اسی آیت میں اعتدال کی بھی ہدایت ہے۔اگر اعتدال نہ ہو سکے اور محبت ایک طرف زیادہ ہو جاوے یا آمدنی کم ہو اور یا قوائے رجولیت ہی کمزور ہوں تو پھر ایک سے تجاوز کرنا نہیں چاہیے۔ہمارے نزدیک یہی بہتر ہے کہ انسان اپنے تئیں ابتلا میں نہ ڈالے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ (البقرۃ:۱۹۱) حلال پر بھی ایسا زور نہ مارو کہ نفس پرست ہی بن جاؤ۔غرض اگر حلال کو حلال سمجھ کر بیویوں ہی کا بندہ ہو جاوے تو بھی غلطی کرتا ہے۔ہر ایک شخص اللہ تعالیٰ کی منشا کو نہیں سمجھ سکتا۔اس کا یہ منشا نہیں کہ بالکل زن مرید ہو کر نفس پرست ہی ہو جاؤ اور وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ رہبانیت اختیار کرو بلکہ اعتدال سے کام لو اور اپنے تئیں بے جا کارروائیوں میں نہ ڈالو۔انبیاء علیہم السلام کے لئے کوئی نہ کوئی تخصیص اگر اللہ تعالیٰ کر دیتا ہے یہ کوتاہ اندیش لوگوں کی ابلہ فریبی اور غلطی ہے کہ وہ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔دیکھو توریت میں کاہنوں کے فرقہ کے ساتھ خاص مراعات ملحوظ رکھی گئی ہیں اور ہندوؤں کے برہمنوں کے لئے خاص خاص رعائتیں ہیں۔پس یہ نادانی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی کسی تخصیص پر اعتراض کیا جاوے۔ان کا نبی ہونا ہی سب سے بڑی خصوصیت ہے جو اور لوگوں میں موجود نہیں۔خدا کا تلوّن رحمت ہے خدا کا تلوّن بھی رحمت ہے۔دیکھو یونس علیہ السلام کی قوم کے معاملہ میں قطعی الہام دے کر جب لوگوں نے چیخنا چلّانا شروع کیا