ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 181

پردہ پوشی فرماتی ہے اور اس کو پاس کرا دیتی ہے۔رحیمیت میں ایک قسم کی پردہ پوشی بھی ہوتی ہے۔عیسائیوں کا خدا ذرہ بھی پردہ پوش نہیں ہے ورنہ کفّارہ کی کیا ضرورت رہتی؟ ایسا ہی آریوں کا خدا نہ رب ہے نہ رحمان ہے کیونکہ وہ تو بلا مُزد اور بلا عمل کچھ بھی کسی کو عطا نہیں کرسکتا۔یہاں تک کہ ویدوں کے اصول کے موافق گناہ کرنا بھی ضروری معلوم دیتا ہے۔مثلاً ایک شخص کو اگر کسی اُس کے عمل کے معاوضہ میں گائے کا دودھ دینا مطلوب ہے تو بالمقابل یہ بھی ضرور ہے کہ کوئی برہمنی (اگر یہ روایت صحیح ہو) زِنا کرے تاکہ اس فسق و فحش کے بدلہ میں وہ گائے کی جون میں جائے اور اس عامل کو دودھ پلائے خواہ وہ اس کا خاوند ہی کیوں نہ ہو۔غرض جب تک ایسا سلسلہ نہ ہوگا کوئی عامل اپنے عمل کی جزا ویدک ایشر کے خزانہ سے پا نہیں سکتا کیونکہ اس کا سارا سلسلہ جوڑ توڑ ہی سے چلتا ہے۔مگراسلام نے وہ خدا پیش کیا ہے جو جمیع محامد کا سزا وار ہے اس لئے معطی حقیقی ہے وہ رحمن ہے بدُوں عملِ عامل کے اپنا فضل کرتا ہے۔پھر مالکیت یوم الدین جیسا کہ مَیں نے ابھی کہا ہے بامراد کرتی ہے۔دنیا کی گورنمنٹ کبھی اس امر کا ٹھیکہ نہیں لے سکتی کہ ہر ایک بی اے پاس کرنے والے کو ضرور نوکری دے گی مگر خدا تعالیٰ کی گورنمنٹ، کامل گورنمنٹ اور لااِنتہا خزائن کی مالک ہے۔اس کے حضور کوئی کمی نہیں۔کوئی عمل کرنے والا ہو۔وہ سب کو فائزالمرام کرتا ہے اور نیکیوں اور حسنات کے مقابلہ میں بعض ضعفوں اور سقموں کی پردہ پوشی بھی فرماتا ہے۔وہ توّاب بھی ہے اور مستحیی بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کو ہزارہا عیب اپنے بندوں کے معلوم ہوتے ہیں مگر وہ ظاہر نہیں کرتا۔ہاں ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ بیباک ہوکر انسان اپنے عیبوں میں ترقی پر ترقی کرتا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی حیا اور پردہ پوشی سے نفع نہیں اُٹھاتا بلکہ دہریت کی رگ اس میں زور پکڑتی جاتی ہے۔تب خدا تعالیٰ کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ اس بیباک کو چھوڑا جائے اس لئے وہ ذلیل کیا جاتا ہے۔مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کو محمد حسین کی نسبت الہام ہوا کہ اس میں کوئی عیب ہے۔اس نے چاہا کہ وہ ظاہر کردیں مگر انہوں نے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی حیا مانع ہے۔پھر انہوں نے اس کی نسبت ایک رؤیا میں دیکھا کہ اس کے کپڑے پھٹ گئے ہیں چنانچہ اب وہ رؤیا پوری ہوگئی۔