ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 180

طرف سے آتی ہیں کیونکہ ہر قسم کی ستائش کا سزاوار جب کہ وہی ہے تو معطی حقیقی بھی وہی ہو سکتا ہے ورنہ لازم آئے گا کہ کسی قسم کی تعریف و ستائش کا مستحق وہ نہیں بھی ہے جو کفر کی بات ہے۔پس اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ میں کیسی توحید کی جامع تعلیم پائی جاتی ہے جو انسان کو دنیا کی تمام چیزوں کی عبودیت اور بالذّات نفع رساں نہ ہونے کی طرف لے جاتی ہے اور واضح اور بیّن طور پر یہ ذہن نشین کرتی ہے کہ ہر نفع اور سود حقیقی اور ذاتی طور پر خدا تعالیٰ کی ہی طرف سے آتا ہے کیونکہ تمام محامد اسی کے لئے سزا وار ہیں۔پس ہر نفع اور سود میں خدا تعالیٰ ہی کو مقدم کرو۔اس کے سوا کوئی کام آنے والا نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے اگر خلاف ہو تو اولاد بھی دشمن ہوسکتی ہے۔اور ہوجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی اُمہاتُ الصفات پھر اسی سورۃ فاتحہ میں اس خدا کا نقشہ دکھایا گیا ہے جو قرآن شریف منوانا چاہتا ہے اور جس کو وہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔چنانچہ اس کی چار صفات کو ترتیب وار بیان کیا ہے جو اُمہات الصّفات کہلاتی ہیں۔جیسے سورۂ فاتحہ اُمّ الکتاب ہے ویسے ہی جو صفات اللہ تعالیٰ کی اس میں بیان کی گئی ہیں وہ بھی اُمّ الصّفات ہی ہیں اور وہ یہ ہیں رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، الرَّحْمٰنِ، الرَّحِيْمِ، مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔ان صفاتِ اربعہ پر غور کرنے سے خدا تعالیٰ کا گویا چہرہ نظر آجاتا ہے۔ربوبیت کا فیضان بہت ہی وسیع اور عام ہے اور اس میں کل مخلوق کی کل حالتوں میں تربیت اور اس کی تکمیل کے تکفُّل کی طرف اشارہ ہے۔غور تو کرو جب انسان اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر سوچتا ہے تو اس کی امید کس قدر وسیع ہوجاتی ہے اور پھر رحمانیت یہ ہے کہ بِدُوں کسی عملِ عامل کے اُن اسباب کو مہیا کرتا ہے جو بقائے وجود کے لئے ضروری ہیں۔دیکھو چاند، سورج، ہوا، پانی وغیرہ بدوں ہماری دعا اور التجا کے اور بغیر ہمارے کسی عمل اور فعل کے اس نے ہمارے وجود کے بقا کے لئے کام میں لگا رکھے ہیں اور پھر رحیمیت یہ ہے کہ اعمال کو ضائع نہ کرے اور مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ کا تقاضا یہ ہے کہ بامراد کردے۔جیسے ایک شخص امتحان کے لئے بہت محنت سے طیاری کرتا ہے مگر امتحان میں دو چار نمبروں کی کمی رہ جاتی ہے تو دنیوی نظام اور سلسلہ میں تو اس کا لحاظ نہیں کرتے اور اس کو گرا دیتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی رحیمیت اس کی