ملفوظات (جلد 1) — Page 172
ہوتا ہے اور جب حیوانی زندگی بسر کرتا ہے اس وقت امّارہ کے نیچے ہوتا ہے اور مجاہدہ کی حالت سے نکل کر جب غالب آجاتا ہے تو مطمئنّہ کی حالت میں ہوتا ہے۔متّقی نفسِ امّارہ کی حالت سے نکل کر آتا ہے اور لوّامہ کے نیچے ہوتا ہے۔اسی لئے متّقی کی شان میں آیا ہے کہ وہ نماز کو کھڑی کرتے ہیں۔گویا اس میں بھی ایک قسم کی لڑائی ہی کی حالت ہوتی ہے۔وساوس اور اوہام آآکر حیران کرتے ہیں مگر وہ گھبراتا نہیں اور یہ وساوس اُس کو درماندہ نہیں کرسکتے۔وہ بار بار خدا تعالیٰ کی استعانت چاہتا ہے اور خدا کے حضور چلاتا اور روتا ہے یہاں تک کہ غالب آجاتا ہے۔ایسا ہی مال کے خرچ کرنے میں بھی شیطان اس کو روکتا ہے اوراسراف اور انفاق فی سبیل اللہ کو یکساں دکھاتا ہے حالانکہ ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اسراف کرنے والا اپنے مال کو ضائع کرتا ہے مگر فی سبیل اللہ خرچ کرنے والا اس کو پھر پاتا ہے اور خرچ سے زیادہ پاتا ہے۔اس لئے ہی مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ (البقرۃ:۴) فرمایا ہے۔صراطِ مستقیم بات یہ ہے کہ صلاح کی حالت میں انسان کو ضروری ہوتا ہے کہ ہر ایک قسم کے فساد سے خواہ وہ عقائد کے متعلق ہو یا اعمال کے متعلق پاک ہو۔جیسے انسان کا بدن صلاحیت کی حالت اس وقت رکھتا ہے جبکہ سب اخلاط اعتدال کی حالت پر ہوں اور کوئی کم زیادہ نہ ہو لیکن اگر کوئی ایک خلط بھی بڑھ جائے تو جسم بیمار ہوجاتا ہے۔اسی طرح پر رُوح کی صلاحیت کا مدار بھی اعتدال پر ہے۔اسی کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں صراطِ مستقیم ہے۔صلاح کی حالت میں انسان محض خدا کا ہو جاتا ہے۔جیسے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حالت تھی۔اور رفتہ رفتہ صالح انسان ترقی کرتا ہوا مطمئنّہ کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور یہاں ہی اس کا انشراح صدر ہوتا ہے۔جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (الم نشـرح:۲) ہم انشراح صدر کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے۔انسان کا سینہ بیت اللہ ہے اور دل حجرِ اَسود یہ بات بحضورِ دل یاد رکھو کہ جیسے بیت اللہ میں حجرِ اسود پڑا ہوا ہے اسی طرح قلب