ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 171

بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ (الفرقان:۷۸) مَیں نے ایک بار پہلے بھی بیان کیا تھا کہ مَیں نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ میں ایک جنگل میں کھڑا ہوں۔شرقاً غرباً اس میں ایک بڑی نالی چلی گئی ہے اس نالی پر بھیڑیں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک قصاب کے جو ہر ایک بھیڑ پر مسلّط ہے ہاتھ میں چھری ہے جو انہوں نے اُن کی گردن پر رکھی ہوئی ہے اور آسمان کی طرف مُنہ کیا ہوا ہے۔مَیں اُن کے پاس ٹہل رہا ہوں۔مَیں نے یہ نظارہ دیکھ کر سمجھا کہ یہ آسمانی حکم کے منتظر ہیں تو میں نے یہی آیت پڑھی قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ۔یہ سنتے ہی اُن قصابوں نے فی الفور چھریاں چلادیں اور یہ کہا کہ تم ہو کیا؟ آخر گوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہو۔غرض خدا تعالیٰ متّقی کی زندگی کی پروا کرتا ہے اور اس کی بقا کو عزیز رکھتا ہے اور جو اُس کی مرضی کے برخلاف چلے وہ اس کی پروا نہیں کرتا اور اُس کو جہنم میں ڈالتا ہے۔اس لئے ہر ایک کو لازم ہے کہ اپنے نفس کو شیطان کی غلامی سے باہر کرے۔جیسے کلوروفارم نیند لاتا ہے اسی طرح پر شیطان انسان کو تباہ کرتا ہے اور اسے غفلت کی نیند سُلاتا ہے اور اسی میں اس کو ہلاک کردیتا ہے۔سورۃ العَصْـرِ میں دو سلسلوں کا ذکر مَیں پھر اصل مطلب کی طرف رجوع کرکے کہتا ہوں کہ سورہ وَالعصر میں دو سلسلوں کا ذکر فرمایا ہے۔ایک ابرار و اخیار کا سلسلہ ہے اور دُوسرا کُفّار اور فُـجّار کا۔کُفّار اور فُـجّار کے سلسلہ کا ذکر یوں فرمایا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ (العصـر:۳) اور دوسرے سلسلہ کو اس طرح پر الگ کیا اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (العصـر:۴) یعنی ایک وہ ہیں جو خسران میں ہیں، مگر خسران میں مومن اور عملِ صالح کرنے والے نہیں ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ خسران میں وہ ہیں جو مومن اور عملِ صالح کرنے والے نہیں ہیں۔یاد رکھو کہ صلاح کا لفظ وہاں آتا ہے جہاں فساد کا بالکل نام و نشان نہ رہے۔انسان کبھی صالح نہیں کہلا سکتا جب تک وہ عقائد ردّیہ اور فاسدہ سے خالی نہ ہو اور پھر اعمال بھی فساد سے خالی ہوجائیں۔متّقی کا لفظ بابِ افتعال سے آتا ہے اور یہ باب تصنّع کے لئے آتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ متّقی کو بڑا مجاہدہ اور کوشش کرنی پڑتی ہے اور اس حالت میں وہ نفسِ لوّامہ کے نیچے