ملفوظات (جلد 1) — Page 159
بھیجتا؟ اور پھر اگر کوئی مجدّد آتا تو تم ہی خدا کے واسطے سوچ کر بتاؤ کہ کیا اس کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ رفع یدین کے جھگڑے کرے یا آمین بالجہر پر لڑتا مرتا پھرے۔غور تو کرو جو مرض وبا کی طرح پھیل رہا ہے طبیب اس کا علاج کرے گا نہ کسی اور مرض کا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی حد ہوچکی۔لکھا ہے کہ ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اپنی ماں سے سُن کر اس کو مار دیا تھا۔یہ غیرت اور حمیّت تھی مسلمانوں کی، مگر آج یہ حال ہوگیا ہے کہ توہین کی کتابیں پڑھتے اور سنتے ہیں غیرت نہیں آتی اور اتنا نہیں ہوسکتا کہ اُن سے نفرت ہی کریں بلکہ اُلٹا جو شخص خدا نے خاص اس فتنہ کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور جلال کے لئے خاص قسم کی غیرت لے کر آیا ہے اُس کی مخالفت کرتے ہیں اور اُس پر ہنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ ہی ان لوگوں کو بصیرت کی آنکھ دے۔آمین آنحضرتؐ کی تائید و نصرت کے متعلق ایک عظیم الشان پیشگوئی فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک سورۃ بھیج کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدر اور مرتبہ ظاہر کیا ہے اور وہ سورۃ ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ (الفیل:۲) یہ سورۃ اس حالت کی ہے کہ جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم مصائب اور دُکھ اُٹھا رہے تھے۔اللہ تعالیٰ اس حالت میں آپؐ کو تسلی دیتا ہے کہ مَیں تیرا مؤید و ناصر ہوں۔اس میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے اصحاب الفیل کے ساتھ کیا کیا؟ یعنی اُن کا مکر اُلٹا کر اُن پر ہی مارا اور چھوٹے چھوٹے جانور اُن کے مارنے کے لئے بھیج دیئے۔ان جانوروں کے ہاتھوں میں کوئی بندوقیں نہ تھیں بلکہ مٹی تھی۔سجیل بھیگی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں۔اس سورۃ شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ قرار دیا ہے اور اصحاب الفیل کے واقعہ کو پیش کرکے آپؐ کی کامیابی اور تائید اور نصرت کی پیشگوئی کی ہے۔یعنی آپ کی ساری کارروائی کو برباد کرنے کے لئے جو سامان کرتے ہیں اور جو تدابیر عمل میں