ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 158

اور توبہ کے ساتھ گِر جاؤ کیونکہ یہی استقامت ہے۔اس وقت دعا میں قبولیت، نماز میں لذت پیدا ہوگی۔ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ ۱۶؎ ۱۹؍جنوری ۱۸۹۸ء (بعد نماز مغرب) چودھویں صدی کے مجدّد کا کام فرمایا۔عیسائیوں کا فتنہ اُمّ الفتن ہے اس لیے چودھویں صدی کے مجدّد کا کام یکسـرُ الصلیب ہے۔پھر جو علامت اُس پر صادق آئی اس لئے چودھویں صدی کا مجدّد مسیح موعود قرار پایا کیونکہ احادیث سے مسیح موعود کا کام یَکْسِـرُ الصَّلِیْبَ ثابت ہوتا ہے۔اب جب کہ ہمارے مخالفوں کو بھی ماننا پڑتا ہے کہ چودھویں صدی کے مجدّد کا کام یَکْسِـرُ الصَّلِیْبَ ہی ہونا چاہیے کیونکہ اس کے سامنے یہی مصیبت ہے پھر انکار کے لئے کون سی گنجائش ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی کا مجدّد ہی ہوگا۔ہماری توجہ ان لوگوں کی طرف ہے جن کو حق کی پیاس ہے لیکن جو حق کی تلاش ہی نہیں چاہتے، جن کی طبیعتیں معکوس ہیں وہ ہم سے کیا فائدہ اُٹھاسکتے ہیں؟ یاد رکھو ہدایت تو اُن کو ہوتی ہے جو تعصب سے کام نہیں لیتے۔وہ لوگ فائدہ نہیں اُٹھاتے جو تدبّر نہیں کرتے۔پس طالب ہدایت سمجھ لے کہ موجودہ حالتوں میں چودھویں صدی کے مجدّد کا یہ کام ہے کہ کسرِ صلیب کرے کیونکہ صلیبی فتنہ خطرناک پھیلا ہوا ہے۔اسلام ایسا دین تھا کہ اگر ایک بھی اس سے مرتد ہوجاتا تھا تو قیامت برپا ہوجاتی تھی لیکن اب کس قدر افسوس ہے کہ مرتد ہونے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ہے اور وہ لوگ جو مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے تھے اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کامل انسان کی نسبت جس کی پاک باطنی کی کوئی نظیر دنیا میں موجود نہیں، قسم قسم کے دل آزار بہتان لگا رہے ہیں۔کروڑوں کتابیں اس سیدالمعصُومین کی تکذیب میں اُس گروہ کی طرف سے شائع ہوچکی ہیں۔بہت سے مستقل ہفتہ وار اور ماہوار اخبار اور رسالے اس غرض کے لئے جاری کر رکھے ہیں۔پھر کیا ایسی حالت میں خدا تعالیٰ کوئی مجدّد نہ