ملفوظات (جلد 1) — Page 132
عدالتوں کا ذکر اور عدالتوں میں گواہوں کا وکلا اور حکّام کے رعب میں آجانے کا کچھ ذکر ہو رہا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔عدالتوں میں اکثر گواہوں پر حاکموں اور وکیلوں کا ایسا رعب پڑ جاتا ہے کہ وہ انسانوں کے حقوق کو محفوظ نہیں رکھ سکتے اور کچھ نہ کچھ بے جا اور غلط بات منہ سے نکال دیتے ہیں جس سے ظلم پیدا ہوتا ہے۔عدالتوں کا رعب بھی ایک شرک ہے۔اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۔فرمایا۔بعض انگریز مقدمات کے فیصلہ کرنے میں بہت چھان بین کرتے اور غور سے سوچ سوچ کر فیصلہ کرتے ہیں۔قدرت کی بات ہے کہ مَیں مرزا صاحب (والد صاحب) کے وقت میں زمینداروں کے ساتھ ایک مقدمہ پر مَیں امرتسر میں کمشنر کی عدالت میں تھا۔فیصلہ سے ایک دن پہلے کمشنر زمینداروں کی نہایت رعایت کرتا ہوا اور ان کی شرارتوں کی پروا نہ کر کے عدالت میں کہتا تھا کہ یہ غریب لوگ ہیں تم ان پر ظلم کرتے ہو۔اس رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ وہ انگریز ایک چھوٹے سے بچہ کی شکل میں میرے پاس کھڑا ہے اور میں اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہا ہوں۔صبح کو جب ہم عدالت میں گئے تو اس کی حالت ایسی بدلی ہوئی تھی کہ گویا وہ پہلا انگریز ہی نہ تھا۔اس نے زمینداروں کو بہت ہی ڈانٹا اور مقدمہ ہمارے حق میں فیصلہ کیا اور ہمارا سارا خرچہ بھی ان سے دلایا۔فرمایا۔حاکم کے لئے دین کا ایک حصہ یہ ہے کہ وہ مقدمات میں اچھی طرح غور کرے تا کہ کسی کا حق تلف نہ ہو جائے۔فرمایا۔دیکھو جب تک انسان مستقل مزاج اور ٹھنڈی طبیعت کا نہ ہو تو ان زمینی حاکموں کے سامنے کھڑا ہونا مشکل ہوتا ہے تو کیا حال ہوگا اس وقت جب کہ اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ کے سامنے کھڑے کیے جاویں گے۔فرمایا۔تورات کی رو سے جو زنا کا نطفہ ہو وہ ملعون ہوتا ہے اور جو صلیب دیا جائے وہ بھی ملعون ہوتا ہے۔تعجب ہے کہ عیسائیوں نے اپنی نجات کے واسطے کفارہ کا مسئلہ گھڑنے کے واسطے یہ تسلیم کر لیا کہ یسوع صلیب پر جا کر ملعون ہوگیا۔جب ایک لعنت کو انہوں نے یسوع کے واسطے روا رکھا ہے تو