ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 131

۱۴ ؍ جنوری ۱۸۹۸ء آخرت پر نظر رکھیں فرمایا۔لوگوں کو لازم ہے کہ آخرت پر نظر رکھیں۔عذاب سے پہلے ڈرنا چاہیے مرد آخر بیں مبارک بندہ ایست # دیکھو! لوط وغیرہ قوموں کا انجام کیا ہوا۔ہر ایک کو لازم ہے کہ دل اگر سخت بھی ہو تو اس کو ملامت کرکے خشوع و خضوع کا سبق دے۔ہماری جماعت کے لئے سب سے ضروری ہے کیونکہ ان کو تازہ معرفت ملتی ہے۔اگر کوئی دعویٰ تو معرفت کا کرے مگر اس پر چلے نہیں تو یہ لاف و گزاف ہی ہے۔اس لئے ہماری جماعت دوسروں کی غفلت سے خود غافل نہ رہے اور ان کی محبت کو سرد دیکھ کر اپنی محبت کو ٹھنڈی نہ کرے۔انسان بہت تمنائیں رکھتا ہے۔غیب کی قضا و قدر کی کس کو خبر ہے۔آرزوؤں کے موافق زندگی کبھی نہیں چلتی ہے۔آرزوؤں کا سلسلہ اور ہے اور قضا و قدر کا سلسلہ اور ہے اور یہی سلسلہ سچا ہے۔یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے پاس انسان کے سوانح سچے ہیں۔اسے کیا معلوم ہے کہ اس میں کیا کیا لکھا ہے اس لئے دل کو جگاجگا کر متوجہ کرنا چاہیے۔(فرمایا)۔افسوس کی بات ہے کہ عام طور پر مصائب کے آنے کی وجہ سے لوگوں کا عُجب و نَخوت دور نہیں ہوا۔میں سچ کہتا ہوں کہ یہ دور نہ ہوں گی جب تک لوگوں کی ضد اور اَڑ دور نہ ہوگی۔میں دیکھتا ہوں کہ لوگ خدا تعالیٰ سے پوری مصالحت کے لئے طیار نہیں ہیں۔قحط کے دوران میں لوگوں نے محسوس نہیں کیا۔ابتدا میں مکہ و مدینہ کا فتویٰ بھی ڈرا دیا کرتا تھا۔جب کبھی کوئی کہتا کہ مکہ معظمہ سے یہ فتویٰ آیا ہے تو لوگ ڈر جاتے تھے لیکن اب ان مصائب کو دیکھ کر بھی لوگ نہیں ڈرتے۔میری رائے ہے جب تک کہ لوگ کامل طور پر رجوع نہ کریں تقدیر نہ بدلے گی۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ (الرّعد:۱۲) ۱۱؎