ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 82

ہند وستان مجموعۃ المذاہب ہے اوّل تو یہ زمانہ ہی ایسا ہے کہ بہ سبب تار، ڈاک،ریل تمام زمین گویا ایک ہی شہر بن رہی ہے۔ہر وقت کی خبریں آتی ہیں۔کثرت سے لوگ اِدھر اُدھر آتے جاتے ہیں مگر بالخصوص ہندوستان ایسا ملک ہے جس میں ہر قسم کے لوگ موجود ہیں۔ایسے بھی ہیں جو وجود باری تعالیٰ کے منکر ہیں، پھر بے قید لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں جو چاہو سو کرو، پھر کتاب کے منکر برہمو موجود ہیں، انسان کے پجاری بھی ہیں، پتھروں کو خدا ماننے والے بھی ہیں، ایک لاکھ سے زائد مرتد عیسائی موجود ہیں، سورج پرست ہیں، پانی کی پوجا کرنے والے، آگ کی پو جا کرنے والے ہیں، آتش پرستی کے بڑے مندر کو زلزلے نے گرا دیا تھا تو اب نیا بنا رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ ایک زلزلہ اور آنے والا ہے۔آزادی اس قسم کی ہے جو جس کے جی میں آتا ہے وہ کہہ گذرتا ہےکسی کی پروا نہیں۔غرض یہ وہی وقت ہے اور بالخصوص ہند میں وہی نظارہ موجود ہے جس کے واسطے پہلے سے پیشگوئی کی گئی تھی۔عیسائی لوگ پچاس پچاس ہزار کتاب اسلام کے بر خلاف شائع کر رہے ہیں۔آریوں کے عقاید کا بوداپن ( ۱) آریہ سماجی کہتے ہیں کہ کئی ارب سالوں کے بعد دنیا میں ایک کتاب آتی ہے اور وہ بار بار وید ہی ہو تے ہیں اور ہند میں ہی آتے ہیں اور سنسکر ت کی ہی زبان اُن کے لئے خا ص ہے گویا پرمیشر کو اور کسی ملک یا زبان کی خبر ہی نہیں۔نہیں معلوم کہ پر میشر ہندوستان پر ایسا کیوں ریجھ گیا ہے اور باوجود اس کے ہندوؤں کو ایسی ذلّت میں کیوں رکھا ہے؟ اس وقت عیسائی بھی بادشاہ ہیں، مسلمان بھی بادشاہ ہیں، بد ھ بھی بادشاہ ہیں مگر کہیں آریوں کی با د شاہی نہیں۔معلوم نہیں کہ پرمیشر کو کیوں یہ بہت پسند آیا؟ شاید اس وجہ سے کہ یہاں نیوگی لوگ رہتے ہیں جو اپنی زندگی میں اپنی بیوی کے واسطے موٹا تازہ خاوند تلاش کرتے ہیں کہ اس سے ہمبستر ہو اور اس کے لئے خوبصورت بچے جنے اور یہ بھی شرط ضروری ہے کہ وہ بیرج داتا برہمن ہو۔( ۲) پھر انسان کو ہنسی آتی ہے کہ آریوں کا یہ ناپاک عقیدہ ہے کہ انسان ایک مدت تک نجات یافتہ