ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 66

غرض یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک انسان اس مقام تک نہیں پہنچتا اس وقت تک وہ خطرہ کی حالت میں ہوتا ہے۔اس لئے چاہیے کہ جب تک انسان اس مرتبہ کو حا صل نہ کرلے مجاہدات اور ریاضات میں لگا رہے۔روح کا جذام سوچنا چاہیے کہ انسان کے بدن پر جذام کا داغ نکل آتا ہے تو پھر کیسے کیسے خیالات اس کے دل میں اُٹھتے ہیں اور کیسے دور دراز کے نتیجوں پر وہ پہنچتا ہے اور اپنی آنے والی حالت کا خیال کر کے وہ کیسا غمگین ہو تا ہے؟ کبھی خیال کرتا ہے کہ شاید اب لوگ مجھ سے نفرت کرنے لگ جائیں گے اور میرے ساتھ بد سلوکی سے پیش آئیں گے اور کبھی سوچتا ہے کہ خدا جانے اب میں کسی ابتر حالت میں ہو جاؤں گا اور کن کن دکھوں میں مبتلا ہو ں گا۔لیکن افسوس! کہ اس بات کا خیال تک بھی نہیں کیا جا تا کہ آخر مَرنا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اس وقت کیا حالت ہو گی؟ یہ جذام تو ایسا ہے کہ مَرنے کے بعد ہی اس سے خلاصی ہو جاتی ہے مگر وہ کوڑھ جو روح کو لگ جاتا ہے وہ تو ابد تک رہتا ہے کیا کبھی اس کا بھی فکر کیا ہے؟ دو جنّتیں یاد رکھو! جو خدا کی طرف صدق اور اخلاص سے قدم اُٹھاتے ہیں وہ کبھی ضا ئع نہیں کئے جاتے ان کو دونوں جہانوں کی نعمتیں دی جاتی ہیں جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نےوَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ ( الرّحـمٰن : ۴۷) اور یہ اس واسطے فرمایا کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ میری طرف آنے والے دنیا کھو بیٹھتے ہیں بلکہ ان کے لئے دو بہشت ہیں ایک بہشت تو اسی دنیا میں اور ایک جو آگے ہو گا۔دیکھو! اتنے انبیاء گذرے ہیں کیا کسی نے اس دنیا میں ذلّت اور خواری دیکھی؟ سب کے سب اس دنیا میں سے کامیاب اور مظفر و منصور ہو کر گئے ہیں۔خدا نے ان کے دشمنوں کو تباہ کیا اور ان کو عزّت اور جلال کے تخت پر جگہ دی لیکن اگر وہ اس دنیا کے پیچھے پڑتے تو زیادہ سے زیادہ دس بارہ روپیہ ما ہوار کی نوکری انہیں ملتی کیونکہ وہ صاف گو اور سادہ طبع تھے مگر جب انہوں نے خدا کے لئے اس دنیا کو چھوڑا تو ایک دنیا اُن کے تا بع کی گئی۔غور کر کے دیکھو! کہ اگر ان لوگوں نے خدا کے لئے اس دنیا کو چھوڑ دیا تھا تو نقصان کیا اُٹھایا؟