ملفوظات (جلد 10) — Page 65
کر لیتا ہے ہم نے ایک شخص کو دیکھا تھا جس نے صرف بارہ آنہ کی خا طر ایک لڑکے کو جان سے مار دیا تھا۔کسی نے خوب کہا ہے کہ ؎ حضرت انساں کہ حد مشترک را جامع است مے تواند شد مسیحا مے تواند شد خرے غرض جو انسان نفسِ امّارہ کے تابع ہوتا ہے وہ ہر ایک بدی کو شیر ِمادر کی طرح سمجھتا ہے اور جب تک کہ وہ اسی حالت میں رہتا ہے بدیاں اُس سے دُور نہیں ہو سکتیں۔پھر دوسری قسم نفس کی نفسِ لوّامہ ہے جیسے کہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ(القیٰمۃ: ۳) یعنی میں اس نفس کی قسم کھاتا ہوں جو بدی کے کاموں اور نیز ہر ایک طرح کی بے اعتدالی پر اپنے تئیں ملا مت کرتا ہے۔ایسے شخص سے اگر کوئی بد ی ظہور میں آجاتی ہے تو پھر وہ اس پر جلدی سے متنبّہ ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو بُری حرکت پر ملامت کرتا ہے اور اسی لئے اس کا نام نفس لَوَّامہ رکھا ہے۔یعنی بہت ملامت کرنے والا۔جو شخص اس نفس کے تا بع ہوتا ہے وہ نیکیوں کے بجالانے پر پورے طور پر قادر نہیں ہوتا اور طبعی جذبات اس پر کبھی نہ کبھی غالب آجا تے ہیں لیکن وہ اس حالت سے نکلنا چاہتا ہے اور اپنی کمزوری پر نادم ہوتا رہتا ہے۔اس کے بعد تیسری قسم نفس کی نفسِ۔مطمئنّہ ہے جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ (الفجر: ۲۸تا۳۱)یعنی اےوہ نفس! جو خدا سے آرام پاگیا ہے اپنے ربّ کی طرف واپس چلا آ تُو خدا سے راضی ہے اور خدا تجھ پر راضی ہے۔پس میرے بندوں میں مل جا اور میرے بہشت کے اندر داخل ہو جا۔غرض یہ وہ حالت ہوتی ہے کہ جب انسان خدا سے پوری تسلی پالیتا ہے اور اس کو کسی قسم کا اضطراب باقی نہیں رہتا اور خدا تعالیٰ سے ایسا پیوند کرتا ہے کہ بغیر اس کے جی ہی نہیں سکتا۔نفسِ لوّامہ والا تو ابھی بہت خطرے کی حالت میں ہو تا ہے کیونکہ اندیشہ ہو تا ہے کہ لَوٹ کر وہ کہیں پھر نفسِ امّارہ نہ بن جاوے۔لیکن نفسِ۔مطمئنّہ کا وہ مرتبہ ہے کہ جس میں نفس تمام کمزوریوں سے نجا ت پا کر روحانی قوتوں سے بھر جاتا ہے۔