ملفوظات (جلد 10) — Page 41
کہ وہ کون سے وجوہات تھے جن کے سبب سے ہمیں یہود اور نصاریٰ سے بھی بدتر ٹھہرایا گیا اور دن رات ہمیں گالیاں دینا موجب ثواب سمجھا گیا۔۱ آخر شرافت بھی تو کوئی چیز ہے۔اس طرح کا طریق تو وہی لوگ اختیار کرتے ہیں جن کے ایمان مسلوب اور دل سیاہ ہو جاتے ہیں۔غرض چونکہ خدا جانتا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب کہ مسلمان یہود سیرت ہو جائیں گے اس لئے غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ والی دعا سکھا دی اور پھر فرمایا وَ لَا الضَّآلِّيْنَ یعنی نہ ہی ان لوگوں کی راہ پر چلانا جنہوں نے تیری سچی اور سیدھی راہ سے منہ موڑ لیا اور یہ عیسائیوں کی طرف اشارہ ہے۔جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انجیل کے ذریعہ سے یہ تعلیم ملی تھی کہ خدا کو ایک اور واحد لاشریک مانو مگر انہوں نے اس تعلیم کو چھوڑ دیا اور ایک عورت کے بیٹے کو خدا بنا لیا۔یہود اور نصاریٰ کا موازنہ کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ مَغْضُوْبِ عَلَیْـھِمْ تو بڑا سخت لفظ ہے اور ضَآلِّیْن نرم لفظ ہے۔یہ نرم لفظ نہیں بات یہ ہے کہ یہودیوں کا تھوڑا گناہ تھا وہ توریت کے پابند تھے اور اس کے حکموں پر چلتے تھے گو وہ شوخیوں اور شرارتوں میں بہت بڑھ گئے تھےمگر وہ کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا بنانے کے سخت دشمن تھے۔۲ اور سورہ فاتحہ میں ان کا نام جو پہلے آیا ہے تو وہ اس واسطے نہیں کہ ان کے گناہ زیا دہ تھے بلکہ اس واسطے کہ اسی دنیا میں ۱بدر سے۔’’ میں نے ان کے کفر ناموں میں دیکھا کہ لکھتے ہیں اس کا کفر یہود و نصاریٰ کے کفر سے بڑھ کر ہے۔تعجب کی بات ہے کہ جو لوگ کلمہ پڑھتے ہیں قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام تعظیم سے لیتے ہیں۔جان تک فدا کرنے کو حاضر ہیں۔کیا وہ ان سے بدتر ہیں جو ہر وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے رہتے ہیں؟‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۷) ۲ بدر سے۔’’ہم نے ایک یہودی سے اس کے مذہب کی نسبت پوچھا تو اس نے کہا ہمارا خدا کی نسبت وہی عقیدہ ہے جو قرآن میں ہے۔ہم نے اب تک کسی انسان کو خدا نہیں بنایا۔اس اعتبار سے تو یہ ضالّین سے اچھے ہیں مگر شوخی شرارت میں ضالّین سے بڑھ کر ہیں۔پس اس لیے کہ انہیں دنیا میں سزا ملی ان کا ذکر پہلے آیا۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۷)