ملفوظات (جلد 10) — Page 389
لوگوں سے سو درجہ بہتر اوراچھے ہو۔ان میں سے پہلی بات تویہی ہے کہ خدا کو جو کہ ہمارا تمہارا پیدا کنندہ اورپروردگار حقیقی ہے اس کو واحدلاشریک جان کر اس کی عبادت کرو۔اس کی عباد ت میں کسی دوسرے دیوی دیوتا، پتھر یا پہاڑ، سانپ یاکسی دوسرے ہیبت ناک درندے، گنگامائی یا جمنا، کوئی درخت ہو یا نباتات غرض کوئی بھی بُت اس کے ساتھ شریک نہ کیا جاوے اور اسے ایک اکیلا خدا کرکے پوجا کرو۔یہ جو تم لوگوں نے تینتیس کروڑ دیوتابنارکھے ہیں ان کی کیا ضرورت تھی اور یہ کیوں بنائے گئے ہیں ؟اتنے خداتمام دنیا میں اورتوکسی کے بھی نہیں ہیں۔(حضرت اقدسؑ کا اتنا بیان سن کر ان مستورات نے طلب حق کی غرض سے عرض کی کہ یہ بات آ پ ہمیں سمجھاویں ) اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ دیکھو! گدا دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو نَرگدا، دوسرے خَرگدا۔نَرگدا کا تو قاعدہ ہوتاہے کہ ایک آواز کی اور اگلے دروازے پر چل دیئے۔کسی نے کچھ دے دیا تو ٹھیک ورنہ خیر بلکہ ایسے لوگوں کو بعض لوگ پیچھے سے آآکر بھی خیرات دیتے ہیں۔ان کا کام صدا کرنا اور آگے بڑھنا ہوتا ہے مگر برخلاف ان کے خَرگدا دھرنا مار کر بیٹھ جاتے ہیں اورایک ہی دروازے پر بیٹھے رہتے ہیں جب تک ان کا سوال پورانہ کیا جاوے اورآخر ایسے گداکو ملتا ہے اورضرورملتا ہے۔یہی حال خدا سے مانگنے والوں کا ہے۔خدا سے بھی وہی پاتے ہیںجو خرگدابن کر خداہی کے دروازے کے ہورہتے ہیں اورپکّے ہوکر استقلال سے خدا کے حضور سے مانگتے ہیں۔غیر مستقل اورجلد باز جو جلدی ہی نا امید یا بدظن ہوجاتے ہیں وہ ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔صدق اورثبات کے ساتھ خدا کی ذات پر کامل ایمان اور یقین بھی ضروری ہے۔یہ اَمر صدق اور اخلاص کے خلاف ہے کہ جلد ی ہی خدا سے مایوس ہوکر اَوروں کی طرف اپنی حاجت کو لے جانا اوردربدر مارے مارے پھرنا، کبھی کسی بُت کے حضور التجائیں کرنا، کبھی کسی دیوتا، پتھر ،پہاڑ، جنگل کے درخت یا گنگا مائی کی طرف حاجت کولے جانا اس اَمرکی دلیل ہے کہ ایک خدا پر بھروسہ نہیں اور اس کو ساری حاجتوں کا پوری کرنے والا ہونے پر