ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 388

اس کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ اصل میں وہ شخص ان کے دل کی خیالی تصویر کے مطابق نہیں ہوتا۔جو کچھ انہوں نے سمجھاہوتا ہے وہ نہیں بلکہ کچھ اور ہی پاتے ہیں۔توبداعتقاد اوربدظن ہوجاتے ہیں۔اوراصل میں یہ وہیں ہوتا ہے جہاں ایسے امور میں اوّل غلو سے کام لیا جاوے مگر انبیاء ایسی ذات اور وجود ہوتے ہیں کہ وہ اپنا وجود دکھا کر اپنی عظمت قائم کرتے ہیں۔۱ ۲۴؍مئی۲۱۹۰۸ء (قبل عصر) ہندومستورات کو شرک ترک کرنے کی تلقین ۲۳؍مئی ۱۹۰۸ء کو بعد نماز عصر چند ہندو مستورات حضرت امام الزمان مسیح موعود مہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دردولت پر آئیں اوربیان کیا کہ ہم مہاراج کے درشن کے واسطے آئی ہیں حضور علیہ السلا م کی خدمت میں اطلاع کی گئی۔چنانچہ آ پ نے نہایت لطف اورمہربانی سے ان کو اجازت دی اوروہ گھر میں جاکر حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔حضرت اقدس چونکہ ان دنوں مضمون رسالہ پیغام صلح کے لکھنے میں مصروف تھے تھوڑی دیر کے بعد آپؑنے فرمایاکہ اب درشن ہوگئے اب تم جائو۔مگر انہوں نے عرض کی کہ ہم کوآپ کوئی وعظ سناویں ہم اسی واسطے حاضر خدمت ہوئی ہیں۔چنانچہ آپؑنے ان کے اصرار اوراخلاص کی وجہ سے ان کو یوں مخاطب کیا (جوکہ آپؑنے ۲۴؍مئی ۱۹۰۸ء کو قبل عصر بیان فرمایا ) فرمایا۔اصل بات یہ ہے کہ آ پ لوگوں میں اگر دو ایک باتیں نہ ہوں تو آپ لوگ آریہ وغیرہ ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۷ مورخہ ۶؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۵،۶ نیز بدر جلد ۷ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۸؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۹،۱۰ ۲ ہندو مستورات حضور علیہ السلام کی زیارت کے لیے ۲۳؍مئی کو بعد نماز عصر آئیں اور حضور علیہ السلام نے ۲۴؍مئی کو قبل نماز عصر ان سے اپنی گفتگو کا ذکر فرمایا۔اس لیے ان ملفوظات پر ۲۴؍مئی کی تاریخ درج ہے۔(خاکسار مرتّب)