ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 340

ہے کہ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا(الشّمس :۱۰) کامیاب ہوگیا، بامراد ہوگیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا۔تزکیہ نفس میں ہی تمام برکات اورفیوض اورکامیابیوں کا راز نہاں ہے۔فلاح صرف اموردینی ہی میں نہیں بلکہ دنیا ودین میں کامیابی ہوگی۔نفس کی ناپاکی سے بچنے والا انسان کبھی نہیں ہوسکتا کہ وہ دنیا میں ذلیل ہو۔میں یہ قبول نہیں کرسکتا کہ فلسفہ، ہیئت اورسائنس کا ماہر ہونے سے تزکیہ نفس بھی ہوجاتا ہے۔ہرگز نہیں۔البتہ یہ مان سکتا ہوں کہ ایسے شخص کے دماغی قویٰ تیز اور اچھے ہوجاتے ہیں۔ورنہ ان علوم کو روحانیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ بعض اوقات یہ امور روحانی ترقی کی راہ میں ایک روک ہوجاتے ہیں اورآخری نتیجہ اس کا بجز اس خوش قسمت کے کہ وہ فطرت سلیم رکھتا ہے اکثر کبرونخوت ہی دیکھا ہے۔کبھی نیکی اورتواضع ان میں نہیں ہوتی۔۱ ضرورت انسان کی راہ نما ہے ایک اورامر قابل یاد رکھنے کے یہ ہے کہ یہ قاعدہ ہے اورقانونِ قدرت میں داخل ہے کہ ہر چیز ضرورت سے پیدا ہوتی ہے۔جس طرح ظاہر ی طورسے ہم دنیوی امور میں ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں۔یہ لباس، خوراک، سواریاں اور اَورآلات معیشت جتنے بھی ہیں یہ تمام ضرورت سے پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح سے روحانی امور میں بھی بہت سے امور ضرورت سے پیدا ہوتے ہیں اورجب کبھی ضرورت ہوتی ہے وہ خدا کی طرف سے پوری کی جاتی ہے۔ضرورت انسان کی روحانی جسمانی تمام امور میں راہ نما ہے اور اسی سے حق وباطل میں امتیاز حاصل ہوسکتا ہے۔جس طرح کوئی چیز بلا ضرورت اور بے فائدہ نہیں اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ضرورتِ حقّہ کے وقت یہ خیال کرنا کہ خدا نے اس وقت کوئی سامان پیدا نہیں کیا۔سخت غلطی ہے۔۱ بدر سے۔’’کبر ایسی بُری بَلا ہے کہ انسان اس کی وجہ سے ہر قسم کی ترقی سے رک جاتا ہے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۲۵؍جون۱۹۰۸ء صفحہ ۴)