ملفوظات (جلد 10) — Page 338
گئے۔سیاست و مدن کے امور کو ترک کر دیا۔خدا نے اُن کو نااہل اور اِن کو اہل پاکر عنانِ حکومت انہی کے ہاتھ میں دی۔یہ اگر کسی پر سختی کرتے بھی ہیں تو کسی وجہ سے۔البتہ اگر کسی معاملہ میں علم نہ ہو تو مجبوری ہے کیونکہ بے علمی کی وجہ سے تو زاہد اور پارسا آدمی بھی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔دیدہ دانستہ ظلم کو ہرگز پسند نہیں کرتے بلکہ سلیم الطبع حکام بعض اوقات ظاہری امور کی پروا نہ کرکے اور ان سے تسلّی نہ پانے کی وجہ سے مقدمات کی تہہ نکالنے کے واسطے اور اصلیت دریافت کرنے کی غرض سے اکثر بڑی محنت اور جانفشانی اور سچی انصاف پسندی سے کام کرتے ہیں۔ہمارا ہی ایک مقدمہ تھا جو کہ ایک معزز پادری نے ہم پر اقدام قتل کا کیا کہ گویا ہم نے اس کے قتل کرنے کے واسطے آدمی بھیجا۔عبدالحمید اس کانام تھا۔آٹھ نو آدمی گواہ بھی گذر گئے۔وہی نہیں بلکہ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب جو کہ مسلمانوں کے پیشوا کہلاتے ہیں۔انہوں نے بھی ایسی گواہی دی۔جس منصف مزاج حاکم کی عدالت میں ہمارا مقدمہ تھا۔اس کانام ڈگلس تھا اس نے ان سب امور کے ہوتے ہوئے کہا کہ مجھ سے ایسی بد ذاتی نہیں ہو سکتی کہ اس طرح سے ایک بے گناہ انسان کو ہلاک کر دوں اور حالانکہ مقدمہ سیشن سپرد کرنے کے لائق ہو گیا تھا۔مگر اس نے پھر کپتان صاحب پولیس کو حکم دیا کہ اس کی اچھی طرح سے تحقیقات کی جاوے۔چنانچہ آخر کار اسی عبدالحمید نے اقرار کیا کہ مجھے اصل میں ان پادریوں نے سکھایا تھا کہ میں ایسا کہوں۔اصل میں کوئی بات نہیں۔یہ معلوم کرکے وہ ایسا خوش ہوا اور ہمیں اس کے تبسم سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایسا خوش ہے کہ جیسا کہ کسی کو بہت سامال و دولت حاصل ہونے کی بھی اتنی خوشی نہیں ہوتی اور آخر کار خود مجھے کہا کہ مبارک ہو آپ بری کئے گئے۔اب بتائیے کہ اگر کسی مسلمان کی عدالت میں ایسا مقدمہ ہوتا تو وہ ایسا کر سکتا تھا؟ اور وہ اس طرح سے صفائی اورانصاف کی جستجوکرسکتا تھا ؟ہر گز نہیں۔بلکہ ہمیں تو حالات موجودہ کے ماتحت بھی امید پڑتی ہے کہ اگر کسی مسلمان کے پاس ہمارا ایسا مقدمہ ہوتا تو وہ ہمیں ضرورہی خوار کرتا۔آٹھ نو گواہ گذرچکے تھے۔مسل مکمل ہوچکی تھی۔اب چھوڑتا توکیوں کر؟ مگر یہ قوم ہے کہ اس کو اسی انصاف کی وجہ سے ہر جگہ فتح نصیب ہوئی ہے۔جب کوئی جس قدر انصاف