ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 329

امن اورصحت کے زمانہ کی قدر کرو۔جو امن وصحت کے زمانے میں خدا کی طرف رجو ع کرتا ہے خدا اس کی تکلیف وبیماری کے زمانہ میں مدد کرتا ہے۔سچے دل سے تضرّع ایک حصار ہے جس پر کوئی بیرونی حملہ آوری نہیں ہوسکتی۔۱ ۱۷؍مئی ۱۹۰۸ء تقریر حضرت اقدس علیہ السلام ۱۱بجے صبح تاایک بجے دوپہر بمقام لاہور تکمیل التبلیغ واتمام الحجۃ ۲ شکریہ مجھے اس وقت اس بات کا اظہار ضروری اورمناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ہمیں تین قسم کا شکر کرنا چاہیے۔سب سے مقدم اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں زندگی دی، صحت دی، تندرستی بخشی، امن دیا اور بدر جلد ۷نمبر ۱۹،۲۰ مورخہ ۲۴مئی۱۹۰۸ء صفحہ ۴تا ۷ ۲بدر نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ تقریر’’البلاغ المبین ‘‘کے زیر عنوان ۲۵ ؍جون ۱۹۰۸ء کے پرچہ میں درج کی ہے جس کے شروع میں یہ نوٹ لکھا ہے۔’’۱۷؍مئی ۱۹۰۸ء کا وجد انگیز نظارہ آخر دم تک مجھے یاد رہے گا۔جب خدا کے ہاتھوں سے معَطَّر کیاہوا مسیح گیارہ بجے معزز رئوساء وامراء لاہور کے سامنے ایک تقریر فرمارہا تھا۔تقریر کیا تھی۔معرفت کا ایک سمندر تھا جو اپنے پورے جوش میں تھا۔عرفان کا ایک بادل تھا جو ابر رحمت بن کر ان پر برسا۔وہ ایک آخری پیغام تھا جو دارالخلافہ میں اس عزّالخلافت نے اپنے قادر و توانا مالک الملکوت سلطان الجبروت کی طرف سے پہنچایا۔بارہ بج گئے اورآپ نے