ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 328

وہ شخص اس سے احسان ومدارات سے پیش آتا ہے تووہ چور خواہ کس قدر بُرا ہے مگر اس شخص کی کبھی چوری نہیں کرے گا اور کبھی اس کے گھر میں نقب نہیں لگائے گا تو کیا خداچور جیسا بھی نہیں؟ کیا خدا سے وفاداری کا تعلق بے فائدہ جاسکتا ہے ؟ہر گز نہیں۔تمام اخلاقِ حمیدہ اسی کے صفات کا پَرتَو ہیں۔جو سچے دل سے اس کے پاس آتے ہیں وہ ان میں اور ان کے غیر میں ایک فرقا ن رکھ دیتا ہے۔سچے دل سے تضرّع ایک حصار ہے صوفی کہتے ہیں جس شخص پر چالیس دن گذر جائیں اورخداکے خوف سے ایک دفعہ بھی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہوں توان کی نسبت اندیشہ ہے کہ وہ بے ایمان ہوکر مَرے۔اب ایسے بھی بندگانِ خدا ہیں کہ چالیس دن کی بجائے چالیس سال گذرجاتے ہیں اور ان کی اس طرف توجہ ہی نہیں ہوتی۔دانشمند انسان وہ ہے جو بَلا آنے سے پہلے بَلا سے بچنے کا سامان کرے۔جب بَلانازل ہوجاتی ہے تو اس وقت نہ سائنس کام دیتی ہے اورنہ دولت۔دوست بھی اس وقت تک ہیں جب تک صحت ہے پھر تو پانی دینے کے لئے بھی کوئی نہیں ملتا۔آفات بہت ہیں۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جلدی توبہ کرو کہ انسان کے گردچیونٹیوں سے بڑھ کر بَلائیں ہیں۔جن لوگوں کا تعلق خدا سے ہے جس طرح وہ بَلائوں سے بچائے جاتے ہیں دوسرے ہرگز نہیں بچائے جاتے۔تعلق بڑی چیز ہے۔ع بہ زیر سلسلہ رفتن طریق عیاری است کوئی انسان نہیں جس کے لئے آفات کا حصہ موجود نہیں۔اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا(اَ لَمْ نَشْـرَح :۷) انسان کو مایوس بھی نہیں ہونا چاہیے۔ع برکریماں کار ہا دشوار نیست ایک منٹ میں کچھ کا کچھ کردیتا ہے۔؎ نومید ہم مباش کہ رندان بادہ نوش ناگاہ بیک خروش بمنزل رسیدہ اند