ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 323

شہادت ہوئی۔اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی شہادت کی طرف دیکھو جو آپ کی رؤیت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے معراج کی رات عیسیٰ کو یحییٰ کے ساتھ دیکھا۔اب اس میں توکسی مسلمان کو شک نہیں کہ یحییٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔پس فوت شدہ گروہ میں جو بہشت جاچکا ہے کسی کو دیکھنا سوا اس بات کے اور کیا معنے رکھتا ہے کہ وہ بھی مَر چکا ہے۔غرض یہ دوشہادتیں ہیں۔آپ خود ہی انصاف کریں کہ ان سے کیا بات ثابت ہوتی ہے؟ پس کیاوجہ ہے کہ عیسٰیؑ کے لیے خصوصیات پیدا کی جائیں؟ پادری عیسٰیؑ کے خدا ہونے کی دلیل بیان کرتے ہیں کہ وہ مُردے زندہ کرتا تھا حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ (الزّمر:۴۳) اب خدا کے کلام میں تناقض نہیں کہ ایک آیت میں کہے مُردے دوبارہ دنیا میں نہیں آتے اوردوسری میں کہے کہ مُردے زندہ ہوتے ہیں۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے ہاتھ پر مُردے زندہ ہوتے ہیں۔لِمَا يُحْيِيْكُمْ (الانفال:۲۵) اورسب کو معلوم ہے کہ اس سے مراد روحانی مُردوں کا زندہ ہونا ہے۔پس مسلمان جو پادریوں کی متابعت میں عیسٰیؑ کے مُردے زندہ کرنے کے قائل تھے غلطی کرتے ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ جو مَسِّ شیطان سے پاک ہے وہ صرف عیسٰی اوراس کی ماں ہی تھی۔دیکھو! اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر ہتک ہے۔ایسے ہی اور بہت سی خصوصیتیں ہیں جومسلمانوں نے عیسٰیؑ کو دے رکھی ہیں۔جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک لازم آتی ہے اورہم اس بات کو کبھی بھی گوارا نہیں کرسکتے کہ اس سید الرسل سے بڑھ کر کسی کو بنایا جاوے جو عیسیٰ سے بدرجہا افضل اوراعلیٰ تھا (اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِ نَا مُـحَمَّدٍ ) مکالماتِ الٰہیّہ جاری ہیں پھر ان مسلمانوں کا ہم سے اس بات (میں) اختلاف ہے کہ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ خدا کے مکالمات و مخاطبات اس امت کے لوگوں سے قیامت تک جاری ہیں اور یہ بالکل سچ ہے کیونکہ یہی تمام اولیاءِ اُمت کا مذہب رہا ہے۔یادرکھو کہ دین اسلام ایسا دین نہیں جس کے کمالات پیچھے رہ گئے ہیں اورآگے کے لئے اس میں کچھ نہیں۔اگر یہ بات ہو اوراس کا دارومدار بھی قصوں پر ہی ہوتو پھر بتائو کہ اس میں