ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 322

حضرت عیسیٰؑ کے واسطے خصوصیت کیوں؟ وہ بےشک خداکے مقرّبین میں سے تھے۔ان پر خدا کا فضل تھا۔وہ اللہ کی نبوت سے ممتا ز تھے مگرا ن کے لیے کوئی ایسی خصوصیت مقررکرنا جو دوسرے انبیا ء میں نہ ہو ٹھیک نہیں۔کہتے ہیں کہ آسمان پر کئی صدیوں سے بجسدہِ العنصری متمکّن ہے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار نے قسمیں کھاکھاکر کہا کہ ہم ضرورمان لیں گے اگر آپ ہمارے سامنے آسمان پر چڑھ جاویں۔اس کا جواب جو دیا گیا وہ یہ تھا کہ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا (بنیٓ اسـرآءیل :۹۴) جب اللہ نے ابتدا سے ایک قانون مقرر کردیا کہ فِيْهَا تَحْيَوْنَ (الاعراف:۲۶) توپھر اللہ اپنی سنّت کے خلاف کیوں کرتا؟ اگر یہ عقیدہ (عیسٰیؑ کے مع جسم آسمان پر چڑھ جانے کا ) اس وقت کے مسلمانوں میں ہوتا تو کافروں کا حق تھا کہ انہیں یہ کہہ کر ملزم کریں کیا وجہ ہے ایک نبی کے لیے یہ اَمر جائز قرار دیتے ہیں اور دوسرے کے لیے نہیں؟ حالانکہ تم اس بات کے بھی قائل ہوکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبیوں سے اوربالخصوص حضرت عیسٰیؑ سے افضل اور جامع کمالات نبوت ہیں۔غرض یہ زندہ آسمان پر چڑ ھ جانے کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ہے بلکہ قرآن تواس عقیدہ کی تردید کرتا ہے یہ آیت ہے جو میں نے پڑھی ہے حدیث نہیں کہ اس پر ضعیف یا وضعی ہونے کا اعتراض ہوسکتا ہو۔ساراقرآن مجید اوّل سے آخرتک دیکھ لو عیسٰیؑ کے اب تک زندہ رہنے کا ثبوت نہ پائو گے۔اگر پائو گے تو یہ کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ عیسیٰ علیہ السلام ربُّ العزت کے حضور عرض کررہے ہیں۔جب تونے مجھے وفات دی تو پھر تونگران حال تھا۔میں دوبارہ نہیں آیا اور یہ کہ عیسائی میرے بعد میں بگڑے ہیں۔تَوَفّی کے معنے موت ایسی بدیہی بات ہے کہ اس کا انکار نہیں ہوسکتا۔یہ لفظ قرآن مجید میں اورانبیاء کے لئے بھی آیا ہے مثلاً حضرت یوسف ؑ نے کہا کہ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا (یوسف :۱۰۲) اورخود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اَوْنَتَوَفَّيَنَّكَ۠ (یونس:۴۷) دونوں باب تفعّل سے ہیں۔کسی لغت کی کتاب میں بھی اس کے خلاف معنے نہ پائو گے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کے کلام کی