ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 260

اور پھر میرے پاس آبیٹھتا۔ایک طرف تو وہ جنگلی جانوروں کو کھاتا اور دوسری طرف ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خدا کے نازل شدہ غضب سے وہ خود بھی ہیبت زدہ تھا۔یہ باتیں ہم نے آج نہیں بنالیں بلکہ یہ اس وقت کی ہیں کہ جب طاعون کا ملک میں نام ونشان بھی نہ تھا۔کیا اس قسم کی غیبی پیشگوئیاں انسان کی طاقت میں ہیں ؟اورانسان ایسے غیب کے بتانے پر قادر ہوسکتا ہے ؟غور تو کرو کہ یہ کس قسم کا افترا ہے جو عین دعویٰ کے مطابق ظہور پذیر ہوکر صدقِ دعویٰ کی ایک زبردست اورلاجواب دلیل بن گیا ہے۔پھر زلزلہ کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے قبل ازوقت خبر دی تھی۔زلزلہ کا دھکا اور عَفَتِ الدِّیَارُ مَـحَلُّھَا وَمَقَامُھَا دیکھو پھر کیسا زلزلہ آیا اور کیسی کیسی تباہیاں دنیا میں واقع ہوئیں۔ذرا کانگڑہ کے مندر کے حالات ہی غور سے پڑھ سن لئے جاویں تواس پیشگوئی کی عظمت اورہیبت معلوم ہوگی۔کیا یہ انسان کا کام ہے؟ہرگز نہیں۔پس اگر یہ خدا کا کلام ہے توپھر کیوں خدا کے مقابلہ میں ایسی جرأت اوردلیری کی جاتی ہے۔اولیاء اورصاحبِ کشف لوگوں کے نزدیک مہدی اور مسیح موعود کا زمانہ میں کمزور اورایک عاجز انسان ہوں مگر خدا جس سے چاہے کام لے لے۔یہ اس کی بندہ نوازی ہے کسی کا حق نہیں کہ خدا کے فعل پر اعتراض کرے۔زمانہ آگیا تھا اور تمام اہل اللہ نے اس وقت کی خبر دی تھی۔حجج الکرامہ میں بہت سے اولیاء اللہ اوراہل کشف لوگوں کے اقوال کے حوالے درج کرکے صدیق حسن خاں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جتنے بڑے بڑے اولیاء اورصاحب کشف لوگ تھے تمام نے متفق طورسے یہی خبر دی ہے کہ آنے والا مہدی اور مسیح موعود چودھویں (صدی) میں ہی آوے گا۔چودھویں صدی سے آگے کوئی بھی نہیں بڑھا۔پھر آگے چل کرلکھا ہے کہ’’کاش وہ میرے زمانہ میں پیدا ہوں تومیں ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاسلام پہنچادوں ورنہ میں اپنی اولاد کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس کو پاویں گے میرا سلام پہنچاویں۔‘‘ مگر ہم جانتے ہیں کہ ایسے لوگوں کوبہت کم توفیق قبولِ حق