ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 259

صداقت کے زبردست نشانات فرمایا کہ قربان جائیے ایسے کفر کے جو اسلام کی اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا باعث ہو۔پس یاد رکھو کہ دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی غریب۔مسافر گٹھڑی باندھے سفر کو تیار بیٹھا ہوتاہے۔دنیا کے بہت سے فکر اپنے ذمے ڈال لینے ٹھیک نہیں ہوتے۔دیکھو دنیا میں طرح طرح کے آفات کیسے خطرناک حملے کررہے ہیں طاعون ہے، زلزلے ہیں، قحط ہے، ان کے علاوہ اورسینکڑوں آفات ارضی وسماوی ہیں۔ان کے ہوتے ہوئے انسان مطمئن کیسے ہوسکتا ہے؟ دیکھو! یہی طاعون یہ بھی ہماری صداقت کا ایک زبردست نشان ہے۔ہم نے اللہ تعالیٰ سے وحی پاکر اس مرض کی خبر اس وقت دی تھی جبکہ پنجاب میں اس کا نام و نشان بھی نہ تھا اور یہ کوئی ہمارا صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ باربار ہم نے اس کے متعلق اپنی کتابوں اورسلسلہ کے اخباروں میں لکھ کردنیا کواطلاع دی تھی کہ خطرناک طاعون ملک میں پھیلنے والا ہے۔ہرایک کوچاہیے کہ قبل اس کے کہ وہ واردہوجاوے توبہ استغفار میں مصروف ہوجائو اور اپنے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا کر لومگر بہت تھوڑے تھے جنہوں نے ہماری بات کو سچا جانا اور اس کی طرف توجہ کی۔ہم نے دیکھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں بعض لوگ سیاہ رنگ کے درخت لگارہے تھے۔ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ درخت طاعون کے ہیں اورپھر ایک ہاتھی کا ساجانور جس کے اعضا مختلف حیوانات سے مشابہ تھے اورمجموعی شکل ہاتھی سے مشابہ تھی، دیکھا کہ وہ ہاتھی ایک بَن میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر مختلف سمتوں میں جاتا تھا اورمختلف قسم کے جنگلی جانوروں مثل ہرن، بکری، سانپ، خرگوش وغیرہ وغیرہ پر حملہ کرتا اوران کو کھاجاتا۔جب وہ حملہ کرتا توجانوروں کے شوروغل سے ایک قیامت کا شوربپا ہوجاتا اوراس کے ہڈیوں وغیرہ کے چبانے کی آواز ہم سنتے تھے ایک طرف سے فارغ ہوکر وہ ہمارے پاس آجاتا اوراس کے چہرہ سے بڑے حلم اور غربت کے آثار نمایاں تھے اور گویا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ زبانِ حال سے کہتا ہے کہ میرا اس میں کیا قصور ہے میں تومامور ہوں۔مجھے جو حکم ہوتا ہے اس کی تعمیل کرتا ہوں۔تھوڑی دیر ہمارے پاس ٹھہرنے کے بعد پھر دوسری طرف جاتا اوروہاں بھی پہلے کی طرح عمل کرتا