ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 242

۲؍مئی ۱۹۰۸ء (قبل ظہر۔بمقام لاہور ) سچائی کی تلاش کے لئے کوشش کرنا فر ض ہے ایک گریجویٹ صاحب حاضر خدمت ہوئے اور عرض کی کہ آپ دعاکریں کہ اللہ تعالیٰ حضور کے اس نور کی شناخت کی توفیق دے تاکہ ہم اس نعمت سے محروم نہ رہ جاویں۔وغیرہ۔فرمایا۔اگر چہ جو کچھ ہوتا ہے وہ خدا کے فضل سے ہی ہوتا ہے مگر کوشش کرنا انسان کا فرض ہے۔جیسا کہ قرآن شریف نے صراحت سے حکم دیا ہے کہ لَيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (النجم:۴۰) یعنی انسان جتنی جتنی کوشش کرے گا اسی کے (مطابق) فیوض سے مستفیض ہوسکے گا اوردوسری جگہ فرمایا وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) جو لوگ خدامیں ہوکر خدا کے پانے کے واسطے کی تڑپ اور گدازش سے کوشش کرتے ہیں ان کی محنت اور کوشش ضائع نہیں جاتی اور ضرور ان کی راہبری اورہدایت کی جاتی ہے۔جوکوئی صدق اور خلوصِ نیت سے خدا کی طرف قدم اٹھاتا ہے خدا اس کی طرف راہ نمائی کے واسطے بڑھتا ہے۔انسان کا فرض ہے کہ تدبر کرے اورحق طلبی کی سچی تڑپ اورپیاس اپنے اندر پیدا کرے۔معلومات کے وسیع کرنے کی جو سبیل اللہ تعالیٰ نے بنائی ہیں ان پر کاربند ہو۔خدابھی بے نیاز ہوجاتا ہے اس شخص سے جو خدا سے لاپروائی کرتا ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ (اٰل عـمران :۹۸)قبولیتِ دعا کے واسطے بھی کوشش اور صدقِ دل کی سچی تڑپ ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔دیکھو دنیوی امتحانات کے واسطے لوگ کیسی کیسی خطرناک کوششیں کرتے ہیں۔محنت کرتے کرتے ان کے دماغ پھر جاتے ہیں اور بعض اوقات خطرناک امراض مثل جنون اورسل دق وغیرہ پیدا ہوجاتے ہیں اوربصورت ناکامی بعض لوگ تو ایسے صدمات کے نیچے آجاتے ہیں کہ خودکشی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔غرض ایک چند روزہ اوردنیوی زندگی کے لئے کیسی کیسی سختیاں برداشت کرتے ہیں۔آخر یہ کامیابیاں کسی قدر ان کی محنتوں ہی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔اگر ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھ رہیں اورامتحان کی تیاری نہ کریں توکبھی کسی کو وہم بھی ہوسکتا ہے کہ وہ