ملفوظات (جلد 10) — Page 241
کیا یہ آخری صدی ہے؟ سوال کیا گیا کہ کیا یہ آخری صدی ہے؟ فرمایا۔اس کا علم خدا کو ہے۔وہ قادر ہے کہ ایک زلزلہ سے تمام دنیا کا خاتمہ کردے۔اصل بات یہ ہے کہ آرام اورخوشی کے وقت میں بھی انسان کو ایسے ایسے سوال سوجھتے ہیں اگر کوئی ذراسی بھی مشکل آجاوے یا ابھی ایک زلزلہ آجاوے اور مکانات لرزنے لگ جاویں تو اس وقت معاً خیال کرلیں گے کہ قیامت آگئی اوریہی دنیا کے خاتمہ کا وقت ہے اورسچے دل سے خدا کو مان لیں گے۔مگر جب امن ہوجاتا ہے تو پھر ایسے ایسے سوالات ہی سوجھا کرتے ہیں۔فرمایا۔میر محمد اسمٰعیل صاحب نے گذشتہ ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء والے زلزلہ کے متعلق ایک قصہ سنایا کہ ایک شخص دہر یہ تھا اورخدا سے منکر تھا مگر جب زلزلہ آیا وہ بھی رام رام کرنے لگ گیا۔آخر جب وہ وقت جاتا رہا تو اس سے سوال کیا گیا کہ تم خداکے منکر ہو پھر اس وقت رام رام کیسا تھا؟ شرمندہ ساہو کر کہنے لگا کہ اصل میں مَیں نے غلطی ہی کھائی میری عقل ماری گئی تھی۔غرض خدا چاہے تو صرف ایک ہی زلزلہ سے ہلاک کردے۔خدا کے آگے کوئی مشکل بات نہیں اب بھی خدا نے ایک زلزلہ کی خبر دی ہوئی ہے۔آوے گا اور بَغْتَةً آوے گا۔ہر کس اپنے اپنے کام میں بےفکری سے مصروف ہوگا۔فلسفے بھی آرام کی حالت میں سوجھتے ہیں۔عذاب نظر آجاوے تو سب کچھ بھول جاتا ہے۔وہ جو ۴؍اپریل والا زلزلہ تھا اس کی بھی ہم نے قبل ازوقت خبر دی تھی اور یہ طاعون جس نے دنیا میں ایک کہرام مچارکھا ہے اس کی بھی ہم نے قبل ازوقت خبر دی تھی۔کتابوں میں اشتہاروں میں اس کو شائع کردیا تھا۔کوئی زبانی بات ہی نہیں۔چنانچہ وہ بعینہٖ بالکل پیشگوئی کے مطابق ظاہر ہوئی اور ابھی خدا نے بس نہیں کی۔اس نے دنیا کو متنبہ کرنے کا ارادہ کرلیا ہے اور نہیں چھوڑے گا جب تک طاقتور حملوں سے دنیا کو منوا نہ لے گا۔ہمارے لئے توہر رات نئی ہوتی ہے۔خداجانے کیا ہونے والا ہے اور کیا کچھ ہوگا۔ہمیشہ ترساں ولرزاں اوردعا میں مصروف رہنا چاہیے۔۱ ۱ الحکم جلد ۱۲نمبر ۳۲ مورخہ ۱۰؍ مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۱تا ۵