ملفوظات (جلد 10) — Page 226
کسی جھوٹے کے واسطے بھی دکھائے جاتے ہیں؟ دیکھو! بعض انبیاء صرف ایک ہی معجزہ سے صادق قبول کرلئے گئے مگر یہاں توہزاروں نشان موجود ہیں۔پھر ہم اگر کسی نئے دین کا دعویٰ کرتے۔کتاب اللہ کے خلاف کوئی نیا حکم اپنی طرف سے بیان کرتے۔سنّت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کمی بیشی کرتے یا ان کو منسوخ کرنے کا دعویٰ کرتے۔نماز، روزہ اورحج کے مسائل میں کوئی تغیر تبدل کرتے تو اس قسم کا کوئی دغدغہ اورشک وشبہ بھی بجا تھا۔مگر ہم تو کہتے ہیں کہ کافر ہے وہ شخص جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے ذرّہ بھر بھی ادھر ادھر ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے روگردانی کرنے والا ہی ہمارے نزدیک جب کافر ہے تو پھر اس شخص کا کیا حال جو کوئی نئی شریعت لانے کا دعویٰ کرے یا قرآن اورسنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تغیر تبدل کرے یا کسی حکم کو منسوخ جانے، ہمارے نزدیک تومومن وہی ہے جو قرآن شریف کی سچی پیروی کرے اورقرآن شریف ہی کو خاتم الکتب یقین کرے اوراسی شریعت کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں لائے تھے اسی کو ہمیشہ تک رہنے والی مانے اوراس میں ایک ذرّہ بھر اور ایک شوشہ بھی نہ بدلے اور اس کی اتباع میں فنا ہوکر اپنا آپ کھودے اوراپنے وجود کا ہرذرّہ اسی راہ میں لگائے عملاً اورعلماً اس کی شریعت کی مخالفت نہ کرے تب پکا مسلمان ہوتا ہے۔البتہ ہمارے اوپر جو کلام الٰہی نازل ہوتا ہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ ہم نے کسی نئی اورتشریعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے بلکہ مکالمہ مخاطبہ کی کثرت کیا بلحاظ کمیت اور کیا بلحاظ کیفیت کی وجہ سے نبی کہا گیا ہے۔اب اس مجلس میں اگر کوئی صاحب عبرانی یا عربی سے واقف ہے تووہ جان سکتا ہے کہ نبی کا لفظ نبأ سے نکلا ہے اور نبأ کہتے ہیں خبر دینے کو۔اورنبی کہتے ہیں خبر دینے والے کو۔یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کلام پاکر جو غیب پر مشتمل زبردست پیشگوئیاں ہوں مخلوق کو پہنچانے والا اسلامی اصطلاح کے روسے نبی کہلاتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں ہے اَنْۢبِـُٔوْنِيْ۠ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ (البقرۃ :۳۲) اصل میں ہماری اوران لوگوں کی صرف نزاع لفظی ہے۔ہمارے مخالف اگر تقویٰ طہارت نہ چھوڑیں اورتعصب اورعناد نہ کریں توسب جانتے ہیں اور