ملفوظات (جلد 10) — Page 225
قربِ قیامت کے وقت آوے گا وہی سب سے پیچھے ہوگا۔لہٰذا وہی سب سے اکمل اورافضل ہوا۔صرف تغیر الفاظ ہی ہے۔قرآن شریف نے خلیفہ کے لفظ سے پکارا ہے اور حدیث میں اس کو مسیح موعودؑ کے نام سے نامزد کیا گیا ہے۔رہا یہ کہ ہمارے اس دعوے کا ثبوت کیا ہے۔سویاد رکھو کہ ہماری صداقت کا ثبوت وہی ہے جو ہمیشہ سے انبیاء اورماموروں کا ہوتا رہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا جو ثبوت کوئی شخص پیش کرسکتا ہے اسی دلیل سے ہم اپنے دعوے کا صدق ظاہر کرسکتے ہیں۔خدا کی طرف سے آنے والے خدا ہی کی گواہی سے سچے ٹھہرا کرتے ہیں۔دعویٰ توصادق بھی کرتا ہے اور کاذب بھی۔اورنفس دعویٰ کرنے میں تو دونوں یکساں ہیں مگر ان میں مابہ الامتیاز بھی تو ہوتا ہے۔بھلا فرض کرو کہ مسیح موعودؑ کا ذکر قرآن میں بھی نہ ہوتا اورحدیث میں بھی پایا نہ جاتا تو پھر کیا تھا؟ پھر بھی صادق اپنے نشانوں سے شناخت کرلیا جاتا۔دیکھو! حضرت موسٰی کا ذکر بھلا کس پہلی کتاب میں درج تھا ؟کوئی بتاسکتا ہے کہ حضرت موسٰی کے آنے کی خبر اورپیشگوئی کس کتاب میں موجود تھی ؟ پھر حضرت موسٰی کس طرح نبی مان لیے گئے؟ یادرکھو کہ خدا کی تازہ بتازہ گواہی ہی صدق کی دلیل ہوسکتی ہے۔صرف دعویٰ بلادلیل صد ق کی دلیل ہرگز نہیں ہوسکتا۔بلکہ جس دعویٰ کے ساتھ خدائی شہادت نہ ہو وہ جھوٹا ہے اورخدا کے مواخذہ کے قابل ہے۔جھوٹے مدعی کو خدا خود ہلاک کرتا ہے اور اس کو مہلت نہیں دی جاتی کیونکہ وہ خدا پر افترا کرتا ہے اورحق وباطل میں گڑبڑڈالنا چاہتا ہے۔میں اسی شریعت کی خدمت اورتجدید کے واسطے آیا ہوں میں کوئی نئی بات نہیں لایا اورنہ ہی میں نے کوئی نئی شریعت قائم کی ہے۔میں اسی شریعت کی خدمت اور تجدید کے واسطے آیا ہوں جو آنحضرتؐلائے تھے اورمیری سچائی دعوے کے لئے بھی منہاج نبوت پر ہی نشان موجود ہیں۔میں نے اپنی کتابوں میں ان کا ذکر کیا ہے۔ابھی ایک تازہ کتاب حقیقۃ الوحی میں نے لکھی ہے اس کا مطالعہ کرکے دیکھ لیا جاوے کہ کس قدر نشان خدا نے میری تائید کے واسطے ظاہر فرمائے۔کیا یہ