ملفوظات (جلد 10) — Page 219
کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کو دینی امور سے کوئی دلچسپی نہیں۔بلکہ لوگ خدا کو بھی بھول چکے ہیں۔مسلمانوں کی یہ ایک غلطی ہے جو شاید غرغرے کے وقت ان کو معلوم ہوجائے گی اورلوگ اس وقت یقین کریں گے کہ واقعی ہم نے جو کچھ سمجھا ہواتھا وہ سارا تانا بانا ہی غلط تھا۔جو انسان کوشش کرے گا وہی پائے گا۔کوشش توہو ساری دنیا کے واسطے اورخدا کانام درمیان بھولے سے بھی نہ آئے۔تقویٰ ہو نہ طہارت۔پھر ایسا انسان امیدوار ہوخدا کے ملنے کا، یہ محال ہے۔آخراب وقت آگیا ہے کہ ان لوگوں کے ہاتھ میں اجر دیا جاوے جو دین کو دنیا پر مقدم کریں۔بجز توفیق الٰہی کے کچھ نہیں ملتا۔دیکھو! نبی کریمؐ نے دنیا کو خدا کے لئے ترک کردیا تھا مگر خدا نے کس طرح ذلیل کرکے دنیا کو آپؐکے سامنے غلاموں کی طرح حاضر کردیا۔دنیا طلب سے بھاگتی اور کوسوں دورجاتی ہے مگر جو صدق دل سے خدا کی طرف جاتاہے اورخدا کی راہ میں دنیا کی کچھ پروا نہیں کرتا دنیا اس کے پیچھے پیچھے پھرتی ہے۔دیکھو! حضرت مسیحؑ کو اس وقت چالیس کروڑ انسان پوجنے والا موجود ہے۔نبی ماننا تو درکنار اس کی خدائی کے قائل ہیں۔یہ سب خدا کی قدرت کے نمونے ہیں کہ خدا کی طرف آنے والا کبھی ضائع نہیں کیا جاتا دین بھی اسے ملتا ہے اوردنیا بھی اس کے لئے حاضر کی جاتی ہے۔دنیا کا پرستار چند روز جو چاہے سوکرے مگر آخر کار دنیا بھی چھوٹ جائے گی اور آخر ت بھی برباد۔دیکھو! دنیا بھی آخر مفت تو نہیں مل جاتی۔دنیا کے وعدے دینے والے بھی تو محنتیں چاہتے ہیں۔امتحان لیتے ہیں۔بصورت کامیابی اورپھر عمدہ کارگذاری سے کچھ ملتا ہے۔اسی طرح اگر وہی محنت دوسرے رنگ میں خدا کے واسطے کی جاوے تو اجر یقینی ہیں۔نہ دین جاوے اور نہ دنیا۔بلکہ بیک کرشمہ دوکار والی بات۔نالے حج نالے ونج کا معاملہ ہوجاوے مگر کم ہیں جو ان باتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔انسان کو چاہیے کہ دعامیں لگا رہے اور کسی قدر تبدیلی اپنے اندر پیداکرنے کی کوشش کرے۔شاید ہے کہ اللہ تعالیٰ توفیق دیدے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ زراعت والا زراعت کو اورتجارت والا تجارت کو،ملازمت والا ملازمت کو