ملفوظات (جلد 10) — Page 218
اورخوف کھاتا تھا مگر جب وہ قریب آیا توآپؐنے نہایت نرمی اور لُطف سے دریافت فرمایا کہ تم ایسے ڈرتے کیوں ہو ؟آخر میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں اور ایک بڑھیا کا فرزند ہوں۔خدا تعالیٰ کی حکمتوں کو کوئی نہیں پاسکتا فرمایا۔جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے تو فیصلہ کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ہمیں چھبیس سال ہوئے تبلیغ کرتے اورجہاں تک ممکن تھا ہم ساری تبلیغ کرچکے ہیں اب وہ خود ہی کوئی ہاتھ دکھلاوے اورفیصلہ کرے گا۔پس جس نے یہ شرط کرلی ہو کہ میں نے تو اس شخص کو ماننا ہی نہیں خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو اوراس کا غبار حد سے بڑھ گیا ہو تو اس کا حال خدا ہی کے سپر د ہے اس کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔خدا کی حکمتوں کو کوئی نہیں پاسکتا۔یہ خدائی تصرفات ہیں جس کو چاہے اپنی طرف کھینچ لے اور جس کو چاہے ردّ کردے۔دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود دنیا کے واسطے رحمت تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (الانبیآء :۱۰۸) مگر کیا ابوجہل کے واسطے بھی آپؐرحمت ہوئے؟ وہ لوگ تو خیال کرتے ہوں گے کہ ابھی یہ ایک یتیم بچہ تھا۔بکریاں چرایا کرتا تھا۔کمزور اور غریب تھا۔نکاح تک بھی تومیسر نہ آیا۔غرض کچھ ایسے ہی خیالات ان کے دل میں آتے ہوں گے مگر ان بدقسمتوں کو کیا خبر تھی کہ ایک دن یہی یتیم دنیا کا شہنشاہ اورنجات دہندہ ہوگا۔۱ یکم مئی ۱۹۰۸ء خدا کی طرف آنے والا کبھی ضائع نہیں ہوتا نماز جمعہ سے پہلے جبکہ چند اجنبی آپ کی ملاقات کے واسطے آئے۔فرمایا۔ہمیں تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آجکل اسلام کی خوش قسمتی نہیں بلکہ بدقسمتی کے دن ہیں ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۹،۵۰ مورخہ ۲۶،۳۰ ؍اگست ۱۹۰۸ء صفحہ ۳