ملفوظات (جلد 10) — Page 214
سب امور روکتے نہیں۔گورنمنٹ کو توکسی کے مذہب سے کچھ سروکار ہی نہیں اورپھر خدا کا فضل ہے کہ ہمارے اصول ہی ایسے ہی نہیں کہ گورنمنٹ ان سے ناراض ہو۔باقی رہی یہ بات کہ رشتے ناطے ٹوٹ جاویں گے یا معاش میں فرق آجاوے گا سویاد رکھنا چاہیے کہ انسان جب خدا کے واسطے کچھ چھوڑتا ہے اوراپنے اوپر مشکلات برداشت کرتا ہے تو خدا اس کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ہر حال میں اس کا خود مددگار اورکارساز ہوجاتا ہے۔۱ ۲۹؍اپریل ۱۹۰۸ء اہل اَمر تسر کی عقیدت مندی اور اخلاص ۲۹؍اپریل ۱۹۰۸ء کو جبکہ بٹالہ سے لاہور کو جانے والی ٹرین اسٹیشن امرت سر پر پہنچی جس میں حضرت اقدس خلیفۃ اللہ فی حلل الانبیاء علیہ الف الف صلوٰۃ وسلام رونق افروز تھے اورمخلصین جماعت احمدیہ امر تسر صدق اور عقیدت مندی کا ایک نہ رکنے والا جوش اوراپنے آقا ومولا کی زیارت کے واسطے شوق بھرے دل لئے ہوئے پہلے ہی سے سٹیشن پر موجود تھے۔ٹرین کے کھڑا ہوتے ہی تمام عقیدت مندان مخلص آگے بڑھ بڑھ کر سعادت مصافحہ اور شرف حضوری حاصل کرتے تھے۔ہر کوئی یہی چاہتا تھا کہ میں آگے بڑھوں اور ان کے دلوں کا شوق عقیدت ان کے چہروں سے نمایاں تھا۔جذب جو خاصہءِ خاصانِ خدااور علامت بندگان عالی ہوتی ہے اوروہ خدا کی طرف سے آنے والوں کو بطور نشان کے عطا ہوتا ہے اس کا یہ عالم تھا کہ سٹیشن بھر کے جس انسان کے کان میں آپ کانام پہنچا اسی کے دل میں شوقِ زیارت نے گدگدی کی اوروہ بے تحاشا بھاگا چلا آیا۔وہ سلامتی کا شہزادہ اورمحبوب خدا سیکنڈ کلاس ڈیپارٹمنٹ۲ میں متمکن تھا۔جلال و شوکت اور رعب ووقار، شہادت صداقت اداکرنے ۱الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۱ مورخہ ۶؍مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۱تا ۳ ۲ نقل مطابق اصل ہے یہ لفظ غالباً کمپارٹمنٹ ہوگا۔(مرتّب)