ملفوظات (جلد 10) — Page 213
عذاب نازل ہونے سے پہلے توبہ کرنی چاہیے افسوس ہے بڑے بڑے حوادث روزہو رہے ہیں مگر لوگ ہیں کہ توجہ نہیں کرتے۔پروا نہیں کرتے۔حضرت موسٰی کے کافر ہی اچھے تھے کہ جب ان پرعذاب نازل ہوتے تھے تب تو توجہ کرتے تھے اورکہتے تھے کہ اگر یہ ٹل جاوے تومان لیں گے۔مگر آجکل کے کافر ان سے بھی زیادہ سخت جان ہیں کہ نت نئے عذاب آتے ہیں۔نئی نئی صورت میں خدا کا قہر نازل ہوتا ہے مگر یہ ہیں کہ کان پر جُوں نہیں چلتی۔دیکھو ایک طاعون نے ہی کیسے کیسے خطرناک حملے کئے۔کیسی کیسی جانگداز تباہیاں واقع ہوئی ہیں کہ ان کا ذکر سننے سے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں مگر کسی پر اثر نہیں ہوا۔وہ لوگ تھے کہ ایسے اوقات میںحضرت موسٰی سے دعا کرایا کرتے تھے مگر یہ لوگ ہیں کہ کہتے ہیں کوئی نہیں معمولی بات ہے ایسا ہواہی کرتا ہے اورایسے عذاب آیا ہی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا قدیم سے یہ وعدہ تھا کہ آخر ی زمانہ میں طرح طرح کے عذاب آویں گے اس وقت بعض ہدایت پاجاویں گے اوراکثر ہلاک ہوں گے۔نشان تو خدادکھاتا ہے مگر نشان سے بھی فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو مومن ہوتے ہیں اور وہ قلیل ہیں۔ایک شخص ہمارے پاس آیاتھا۔اس نے ذکر کیا کہ ہمارے شہر میں طاعون نے سخت تباہی ڈالی ہے۔بہت لوگ تیار ہیں کہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر توبہ کریں اور اصل بات یہی ہے کہ مجھے بھی طاعون ہی حضور کے پاس لائی ہے۔اس سال طاعون کسی قدر کم ہے اس وجہ سے دل بھی سخت ہیں۔دلیر ہیں۔مگر کسی کو علم کیا ہے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے ؟پس مطمئن نہیں رہنا چاہیے اورقبل اس کے کہ عذاب نازل ہوجاوے توبہ کرنی چاہیے اور خدا کی طرف جھکنا اورحفاظت طلب کرنی چاہیے مگر یہ سب کچھ توفیق سے ہوسکتا ہے۔انسان کو بعض اوقات شیطان بڑے بڑے وسوسے پیدا کردیتا ہے۔میرے رشتے ناطے ٹوٹ جاویں گے میرے جاہ و عزت میں فرق آجاوے گا یا وجوہ معاش بند ہوجاویں گے یا میرے حکام مجھ سے ناراض ہوجاویں گے مگر یاد رکھو کہ ہدایت کے قبول کرنے سے یہ