ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 203

خطرناک اورشدید دورہ ہوتا ہے کہ انسان پاگل ہوجاتا اور آخر کارپی ہی لیتا ہے خواہ پھر ہوش سنبھالنے پر توبہ ہی کرلے۔فرمایا۔وہ معاصی کا دورہ ہوتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی بات اَنہونی نہیں ہے۔جہاں قوتِ ایمانی ہووہاں معاصی ٹھہر ہی نہیں سکتے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی کی طرف دیکھا جاوے کہ انہوں نے حرمت کی آیت نازل ہونے کے بعد کیسی چھوڑی کہ پھر اس توبہ کی حالت میں ہی مَر گئے۔وہاں تو شراب نے کبھی دورہ نہ کیا اور نہ ہی کسی کو ایسا از خود رفتہ کرلیا کہ وہ مجبور ہوجاتا۔حکمِ حرمت کے دن شہر کی گلیوں میں ٹخنوں تک بہہ نکلی۔مگر یہ سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسی اور تاثیر کا نتیجہ تھا کہ صحابہ ؓ کے ایمان ایسے قوی ہوگئے تھے کہ شراب بھی جس کا وہ لوگ پانی کی جگہ استعمال کرتے تھے شرک کی طرح ایسی نابود ہوئی کہ پھر نہ عود کر سکی۔آنحضرتؐکو اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے کیسا معصوم رکھا تھا کہ باوجود یکہ آ پ کے تمام رشتہ دار اور اقرباء اور ہم قوم اس خبیث چیز کے استعمال میں مستغرق تھے اور آنحضرتؐنے اپنی ابتدائی چالیس سالہ زندگی انہی لوگوں میں بسر کی مگر کسی کا اثر آپؐپر نہ ہوا۔گویا روز ازل ہی سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو معصوم بنایا تھا اور یہ آپؐکی فطرت سلیم کی اور عصمت کی ایک خاص دلیل ہے۔۱ ۲۲؍اپریل ۱۹۰۸ء احباب جماعت پر نکتہ چینی نامناسب ہے کسی شخص کا یہ اعترض پیش ہو ا کہ احمدیوں نے کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی بات بات پر آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔فرمایا۔ایسے اعتراض باریک در باریک بغض کی وجہ سے ہوتے ہیں۔کیا شرک گناہ اور ناپاک زندگی سے توبہ کرنا تبدیلی نہیں ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص بیعت کرکے جاتا ہے اس میں ۱الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۰مورخہ۲۶؍ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱