ملفوظات (جلد 10) — Page 195
آسمانی بجلی فرمایا۔خدا تعالیٰ کی ہیبت ناک اور غضب کی تجلیات کا سب سے اکمل اور اَتم مظہر صاعقہ ہے اس میں دونوں باتیں سمندر میں میٹھے اور کڑوے پانی کی طرح خدا کے غضب اور مراحم کی پہلو بہ پہلو چلی جارہی ہیں۔۱ ایک طرف صاعقہ خدا کے غضب کا مظہر ہے تو دوسری طرف روشنی اور بارش خدا کے رحم کے مظہر بھی موجود ہیں۔فرمایا۔ایک الہام بھی ہے کہ اِنِّیْٓ اَ نَا الصَّاعِقَۃُ فرمایاکہ بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بغیر اس کے کہ بجلی اپنا اثر کرے موت کا باعث ہو جایا کرتی ہے۔چنانچہ ایک دفعہ ہم نے دیکھا کہ ایک موقع پر کچھ گدھے صرف بجلی کے صدمے سے ہی مَر گئے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم سیالکوٹ میں ایک مکان پر تھے اور پندرہ یاسولہ آدمی اور بھی ہمارے ساتھ تھے۔دفعتاً بجلی اس مکان کے دروازے پر پڑی اور دروازے کی شاخ کو دوٹکڑے کر دیا اور مکان دھواں دھار ہو گیا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا بڑی کثرت سے گندھک جلائی گئی ہے۔پھر چند منٹ کے بعد ہی ایک دوسرے محلے میں ایک مندر تھا اور اس کے پیچ در پیچ راستے تھے۔چنانچہ اس موقعہ پر آپؑنے کھڑے ہو کر اپنے دست مبارک کی لکڑی سے زمین پر ذیل کی صورت کا ایک نقشہ کھینچا۔ اور فرمایاکہ اس قسم کے پیچ در پیچ راستوں سے ہو کر وہ بجلی اندر مندر میں گئی اور وہاں ایک سادھو بیٹھا تھا اس پر جا کر پڑی چنانچہ وہ سادھو ایک چو۔۲ کی طرح ہو گیا ہوا تھا۔۱ بدر سے۔’’خدا تعالیٰ کی دو صفتیں ہیں۔جلال اور جمال۔دونوں ساتھ ساتھ کام کر رہی ہیں۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۱۶ مورخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۴) ۲پنجابی میں جلی ہوئی لکڑی کو کہتے ہیں۔(مرتّب)