ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 176

جس وقت چاہے دکھا سکتا ہے۔نشان دکھانا ہمارا کام نہیں ہے۔خدا کے دکھائے ہوئے نشانات ہزاروں موجود ہیں۔ہاں البتہ ان میں یہ بات ضرور ہے کہ وہ کسی کے خاص کرکے مانگے ہوئے نہیں ہیں بلکہ وہ ہیں جو خدا نے خود اپنے ارادے اورخوشی سے دکھائے۔میں توایسے شخص کے اسلام میں ہی شک کرتا ہوں جو مسلما ن کہلا کر قرآن شریف اورسنت رسول سے باہر کوئی سوال کرتا ہے اگر سعادت و رشد کا انسان میں کچھ بھی حصہ ہو اور حق طلبی کی پیاس اور سچی تڑپ موجود ہو توکیوں خدائی نشانات میں غور نہیں کی جاتی اوران کو کیوں قبول نہیں کیا جاتا؟ کیا وہ نشانات باسی ہوگئے ہیں کہ ان کی پروا نہیں کی جاتی اور کہا جاتا ہے کہ جو ہم مانگتے ہیں وہ ہمیں دیا جاوے۔یاد رکھو! یہ بڑی بھاری جرأت اوربے ادبی ہے۔خدا بڑا بے نیاز ہے اسے کسی کی پروا ہی کیا ہے۔اگر ساری دنیا بھی اس سے منہ پھیرلے تو اس کا کچھ بگڑتا نہیں۔کسی کی خواہشات کا ماتحت ہوکر اور مجبور ہوکر وہ نہیں چلے گا۔تسلّی پانے کے لئے دُعاکی ضرورت نماز ظہر کے بعد پھر پیر صاحب موصو ف کو بلا کر نہایت نرمی،اخلاق اورمحبت بھرے الفاظ سے یوں فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب انسان کے دل کی حالت صاف ہوتی ہے اور اس میں خلوص اور حق کی تڑپ ہوتی ہے اورخدا کو جو دلوں کے حالات سے واقف ہے اس کے لئے کوئی اَمر ہدایت کا منظور ہوتا ہے تو خدا اپنے مامورین کے دل میں اس شخص کے لئے ایک خاص جوش اورتوجہ پیدا کردیتا ہے اورالہام خفی سے مامور کو اس کی طرف متوجہ کردیتا ہے مگر یہ جب ہوتا ہے کہ خدا کو سائل کی حالت تقویٰ اورسچی تڑپ معلوم ہوجاوے۔پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ حضورِ الٰہی میں سائل کا سوال قابلِ قبول ہوگیا ہے۔پس آپ اس اَمر کے لئے خدا کے حضور دعا کریں اورتوبہ استغفار سے کام لیں۔ممکن ہے کہ آ پ کی دعاکی وجہ سے خدا کوئی ایسے سامان مہیا