ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 128

ہمیں خیال آیا کہ ہمارا نام مہدی ہے، عیسیٰ ہے اور کرشن کے نام سے بھی اللہ نے ہمیں پکارا ہے اور انہیں تینوں کی آمد کی انتظار میں اس وقت تین بڑی قومیں لگی ہوئی ہیں۔مسلمان مہدی کے، عیسائی عیسیٰ کی آمد ثانی کے اور ہندو کرشن اوتار کے۔چنانچہ ان ناموں میں یہی حکمتِ الٰہی تھی۔کرشن کی گوپیوں کی حقیقت مولوی ابو رحمت صاحب نے عرض کی کہ حضور کرشن کے معنے ان کی لغت کے بموجب ہیں وہ روشنی جو آہستہ آہستہ دنیا کو روشن کرتی ہے۔تاریکی جہالت کے مٹانے والے کا نام کرشن ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کے متعلق جو گوپیوں کی کثرت مشہور ہے اصل میں ہمارے خیال میں بات یہ ہے کہ اُمت کی مثال عورت سے بھی دی جاتی ہے۔چنانچہ قرآن شریف سے بھی اس کی نظیر ملتی ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ۔الـخ (التّحریم:۱۲)یہ ایک نہایت ہی باریک رنگ کا لطیف استعارہ ہوتا ہے۔اُمت میں جوہرِ صلاحیت ہوتا ہے اور نبی اور اُمت کے تعلق سے بڑے بڑے حقائق معارف اور فیضان کے چشمے پیدا ہوتے ہیں اور نبی اور اُمت کے سچے تعلق سے وہ نتائج پیدا ہوتے ہیں جن سے خدائی فیضان اور رحم کا جذب ہوتا ہے پس کرشن اور گوپیوں کے ظاہری قصہ کی تہہ میں ہمارے خیال میں یہی رازِ حقیقت پنہاں ہے۔مولوی ابو رحمت صاحب نے عرض کی کہ گوپی کے معنے یوں بھی ہیں کہ گو کہتے ہیں زمین کو اور پی پالنے والے کو یعنی کرشن جی کے مریدان با صفا ایسے لوگ تھے جو نیک مزاج اور مخلوق کی پرورش کرنے والے تھے۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ۔اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ انسان کو زمین سے بھی تشبیہ دی گئی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ذکر ہے کہ اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الـحدید: ۱۸) ارض کے زندہ کرنے سے مراد اہلِ زمین ہیں۔پھر مولوی ابو رحمت صاحب نے عرض کی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ کرشن جی نے اپنی تعلیم کو عورتوں ہی کے