ملفوظات (جلد 10) — Page 124
بیعت کی حقیقت ہی کو نہیں سمجھا۔۱ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء ( بوقتِ سیر) کرشن جی مہاراج کا مذہب مولوی ابو رحمت صاحب نے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور کرشن جی مہاراج کا مذہب جیسا کہ خود ان کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے ان کے زمانہ کے عام اہلِ ہنود سے الگ تھا۔حضرت اقدسؑ نے فرمایاکہ یہ واقعی اور صحیح بات ہے کہ بعد کے لوگ بزرگوں کی تعلیم کو بوجہ امتداد ِزمانہ بھول جاتے ہیں اور اُن کی سچی تعلیموں میں بہت کچھ بے جا تصرّف کر لیا کرتے ہیں اور مرورِ زمانہ سے ان کی اصلی تعلیم پر سینکڑوں پردے پڑ جاتے ہیں اور حقیقتِ حال دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہو جاتی ہے۔اصل بات یہی سچ ہے کہ اُن کا مذہب موجود ہ مذہب اہلِ ہنود سے بالکل مختلف اور توحید کی سچی تعلیم پر مبنی تھا۔حضرت اقدسؑ نے اس جگہ اپنے دو الہام بیا ن فرمائے۔اوّل یہ ہے کہ ہے کرشن رُوِدَّر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔اور دوسرا الہام یہ بیان فرمایا کہ ایک بار الہام ہوا تھا کہ آریوں کا بادشاہ آیا ایک اور خواب حضرت اقدس ؑنے فرمایا کہ ایک بار ہم نے کرشن جی کو دیکھا کہ وہ کالے رنگ کے تھے اور پتلی ناک،کشادہ پیشانی والے ہیں۔کرشن جی نے اُٹھ کر اپنی ناک ہماری ناک سے اور اپنی پیشانی ہماری پیشانی سے ملا کر چسپاں کر دی۔ایک اور واقعہ آپ نے یوں بیان فرمایا کہ خواجہ باقی باللہ صاحب کے سامنے کسی شخص نے اپنی خواب یوں بیان کی کہ میں نے دیکھا ہے ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۷ مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۶