ملفوظات (جلد 10) — Page 106
کیا ارادے ہیں اور کل کیا ہونے والا ہے؟ پس پہلے سے دعا کرو تابچائے جاؤ۔بعض وقت بَلا اس طور پر آتی ہے کہ انسان دعا کی مہلت ہی نہیں پاتا۔پس پہلے اگر دعا کر رکھی ہو تو اُس آڑے وقت میں کام آتی ہے۔عذاب کا فلسفہ جب لوگ حد سے زیادہ دنیا میں دل لگاتے ہیں۔خدا سے بے پروائی اختیار کرتے ہیں تو انہیں متنبہ کرنے کے لئے عذاب نازل ہوتا ہے۔دیکھو طاعون کیسی تباہی ڈال رہی ہے۔ایک کو دفن کر کے آتے ہیں تو دوسرا جنازہ تیار ہوتا ہے۔یاد رکھو کہ بت پرستی، انسان پرستی، مخلوق پرستی کی سزا آخرت میں ہے۔مگر شوخیوں بدمعاشیوں، ظلم وتعدی، غفلت اور اہل حق کو ستانے و دکھ دینے کی سزا اسی دنیا میں دی جاتی ہے۔نوح کے وقت جو عذاب آیا اگر خدا کے رسول کو نہ ستاتے تو وہ عذاب نہ آتا۔یہ شوخی پر اس لیے عذاب آتا ہے کہ ’’ایک چور دوسرا چتر ‘‘دنیا دار المکافات نہیں۔اس میں دست بدست سزا صرف اُسے ملتی ہے جو بدمعاشی کرے۔جو شرافت کے سا تھ گناہ میں گرفتار ہو تو اس کی سزا آخرت میں ہے اور اب جو دنیا میں عذاب آیا تو اسی لیے کہ دلیری، شوخی، شرارت حدسے بڑھ گئی ایسی کہ گویا خدا ہے ہی نہیں۔طاعون نے اس قدر سخت بربادی کی مگر ابھی اُن کے دلوں نے کچھ محسوس نہیں کیا۔پوچھو تو ہنسی ٹھٹھے میں گذار دیتے ہیں۔بعض کہتے ہیں معمولی بیماری ہے گویا خدا کے قضاء وقدر سے منکر ہیں۔بے شک یہ بیماری ہے مگر انہی بیماریوں سے عذاب آیا کرتا ہے۔یہودیوں پر جب یہ وباپڑی تو خدا نے اسے عذاب فرمایا۔یاد رکھو کہ جب خدا چاہتا ہے انہیں بیماریوں کو شدت وکثرت میں بڑھا کر ہلاک کر دیتا ہے۔ان لوگوں کی بے یقینی کی یہ علامت ہے کہ عذاب کو عذاب نہیں سمجھتے۔خدا رحیم ہے۔سزا دینے میں دھیماہے مگر یہ لوگ یاد رکھیں کہ جب تک وہ وقت نہ آئے گا کہ پکار اُٹھیں’’ اب ہم سمجھے‘‘ یہ عذاب ہٹنے کا نہیں۔اس کا علاج وہی ہے جو ہم بار ہا دفعہ بتا چکے ہیں۔یعنی تضرّع وانابت اِلَی اللہ۔۱