ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 2 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 2

ان کو بھی غور و فکر کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور ان کے شوروغل کے سبب دوسرے لوگوں کو بھی اس طرف توجہ ہو جاتی ہے کہ دیکھنا چاہیے کہ اصل میں بات کیا ہے؟ کئی لوگوں کے ہمارے پاس خطوط آئے کہ مولوی محمد حسین یا مولوی ثناء اللہ وغیرہ کا انہوں نے نام لیا کہ ان کی مخالفانہ تحریریں اور کتب پڑھ کر ہمیں اس طرف خیال ہوا کہ آخر مرزا صاحب کی تحریر بھی منگوا کر دیکھنی چاہیے اور جب آپ کی کتاب پڑھی تو اس کو روحانیت سے پُر پایا اور حق ہم پر کھل گیا۔جب انسان توجہ کرتا ہے تو اس کا دلی انصاف خود اُسے ملزم کرتا ہے۔جہاں مخالفت کی آگ بھڑکتی ہے اور شور اُٹھتا ہے اس جگہ ایک جماعت پیدا ہو جاتی ہے۔انبیاء سے پہلے تمام لوگ نیک وبد بھائی بھائی بنے ہوتے ہیں۔نبی کے آنے سے ان کے درمیان ایک تمیز پیدا ہو جاتی ہے سعید الگ ہو جاتے اور شقی الگ ہو جاتے ہیں۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مخالفین کو یہ کلمہ نہ سناتے کہ اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ( الانبیآء :۹۹ ) تم اور تمہارے معبود سب جہنم کے لائق ہیں تو کفار ایسی مخالفت نہ کرتے مگر اپنے معبودوں کے حق میں ایسے کلمات سن کر وہ جوش میں آگئے۔پنجاب میں سب سے زیادہ ہماری مخالفت ہوئی اور اسی جگہ خدا تعالیٰ نے سب سے زیادہ جماعت بھی بنائی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے لوگ امت واحدہ ہوتے ہیں پھر نبی کے آنے سے ان میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ابوجہل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سا تھ جو مباہلہ کیا تھا اور آخری دعا کی تھی کہ اے خدا! جس نے ملک میں فساد پیدا کر رکھا ہے اور قطع رحم کرتا ہے آج اس کو ہلاک کر دے جس کے نتیجہ میں وہ خود ہلاک ہوا۔اس کی دعا سے ظاہر ہے کہ آنحضرت کی بعثت سے ملک کی کیا حالت ہو گئی تھی اور باہمی فساد کو کفار کس کی طرف منسوب کرتے تھے؟ جب شور اُٹھتا ہے تو ایسے آدمی بھی پیدا ہو جاتے ہیں جو انصاف کی پابندی کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں مخالفینِ انبیاء کی عادت ہے کہ رسم وعادت کی پیروی کرتے ہوئے ایک بات پر اَڑ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے اُمید منقطع کر کے اسی پر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم اسی پر مَر جائیں گے خواہ کچھ ہی ہو۔مگر خدا تعالیٰ انہی لوگوں میں سے سعید الفطرت انسان بھی پیدا کر دیتاہے۔