ملائکۃ اللہ — Page 90
۹۰ ملائكة الله شیطان سے کیا مراد ہے اب میں یہ بتاتا ہوں کہ شریعت نے انسان کے ذاتی بُرے خیالات کو بھی شیطانی قرار دیا ہے اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ شیطان کا وجود ہی نہیں ہے کیونکہ میرا یہ بھی یقین ہے کہ ہر نیک تحریک در حقیقت انسان کے قلب سے ہی پیدا ہوتی ہے۔حالانکہ میں ملائکہ اور ان کے اثرات کا قائل ہوں۔پس میرے قول کا یہ مطلب ہے کہ شریعت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی خیالات کو بھی شریعت نے شیطانی قرار دیا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب انسان کے دل میں بدخیال آئے تو شیطان اس پر اپنا پر تو ڈال کر اس کو بڑھا دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا۔ایک وضوء کا شیطان ہے اس کا نام ولہان ہے۔اس کا کام یہ ہے کہ پانی زیادہ گرواتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا اس جگہ یہ مطلب نہیں کہ واقع میں کوئی وضوء کا شیطان ہے بلکہ آپ نے دل کے خطرہ کا نام شیطان رکھا ہے۔شیطان کا کام تو خدا تعالیٰ سے دُور کرنا ہے پانی سے اس کا تعلق نہیں۔اور ولہان کے معنے ہیں ایسا متفکر کہ جسے ایک خیال کے سوا اور کوئی خیال ہی نہ رہے اور اسی حالت کا نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولہان نامی شیطان رکھا ہے۔اس حالت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کو کچھ ہوش ہی نہیں رہتی اور بجائے اس کے کہ وضوء کے وقت اسے نماز کی طرف توجہ ہو۔وہ اپنے خیالات میں محو ہو کر پانی بہاتا چلا جاتا ہے۔ورنہ فی الواقع شیطان اس کو پانی گرانے کے لئے نہیں کہتا کیونکہ شیطان کو زیادہ ترمذی ابواب الطهارة باب كراهية الاسراف فى الوضوء