ملائکۃ اللہ — Page 89
۸۹ ملائكة الله ایک دفعہ ایک سکھ طالب علم نے جو گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا اور حضرت مسیح موعودؓ سے اخلاص رکھتا تھا حضرت صاحب کو کہلا بھیجا کہ پہلے مجھے خدا پر یقین تھا مگر اب میرے دل میں اس کے متعلق شکوک پڑنے لگ گئے ہیں۔حضرت صاحب نے اسے کہلا بھیجا کہ جہاں تم کالج میں بیٹھتے ہو اس جگہ کو بدل لو۔چنانچہ اس نے جگہ بدل لی اور پھر بتایا کہ اب کوئی شک نہیں پیدا ہوتا۔جب یہ بات حضرت صاحب کو سنائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اس پر ایک شخص کا اثر پڑ رہا تھا جو اس کے پاس بیٹھتا تھا اور وہ دہریہ تھا۔جب جگہ بدل لی تو اس کا اثر پڑنا بند ہو گیا اور شکوک بھی نہ رہے۔تو بڑے آدمی کے پاس بیٹھنے سے بھی بلا اس کے کہ وہ کوئی لفظ کہے اثر پڑتا ہے اور اچھے آدمی کے پاس بیٹھنے سے ہلا اس کے کہ وہ کچھ کہے اچھا اثر پڑتا ہے۔پس دُنیا میں خیالات ایک دوسرے پر اثر کر رہے ہوتے ہیں مگر ان کا پتہ نہیں لگتا۔ایک شخص کسی مجلس میں جاتا ہے جہاں کسی شخص کے دل میں کوئی برا خیال ہوتا ہے اور کسی کے دل میں کوئی۔وہ اس کے دل پر اثر کر رہے ہوتے ہیں اور اسے پتہ بھی نہیں ہوتا مگر جب ملائکہ اس کے ہر دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں ہاتھ ، کان، ناک، منہ اور آنکھ وغیرہ دروازوں پر تو ایسے لوگ جب کسی مجلس میں جاتے ہیں ان پر کوئی بڑا اثر نہیں ہوسکتا۔ان پر پاک ہی پاک اثر ہوتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود تو پاک تھے مگر دوسروں کو سکھانے کے لئے جب آپ کسی مجلس میں بیٹھتے تو ستر دفعہ استغفار کرتے۔اس سے آپ نے مسلمانوں کو سکھایا کہ وہ بھی ایسا ہی کیا کریں۔تو خیالات کا اثر یقینی اور ثابت شدہ اثر ہے۔جو لوگ زیادہ نیک اور متقی ہوتے ہیں انکے ہر دروازہ پر کہ جس سے خیالات کا اثر اندر آتا ہے فرشتے متعین ہوتے ہیں جو انہیں بُرے اثرات سے محفوظ کر دیتے ہیں۔