ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 118

۱۱۸ ملائكة الله لیکن یہ نہیں کہا گیا۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ پہلی بات مستقل حکم کا رنگ رکھتی تھی۔یعنی چونکہ خدا اور ملائکہ اس رسول پر درود بھیجتے ہیں اس لئے تم بھی بھیجو۔اور دوسری آیت میں اس فعل کی جزاء بتائی کہ چونکہ تم نے اس حکم کی تعمیل کی اس لئے اس کی جزاء میں خدا اور رسول ان پر بھیجنے لگ گئے۔گویا وہاں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ کی وجہ سے درود کا حکم دیا گیا تھا اور یہاں اس کی جزاء کو بیان کیا گیا ہے اور چونکہ جزاء کے بدلے میں پھر اور حکم نہیں دیا جاتا اس لئے آگے یہ نہیں فرمایا کہ تم دوسرے بندوں پر بھی درود بھیجو مثلاً جب ہم روپیہ دے کر کپڑا خریدیں تو کپڑا دینے والا یہ نہیں کہ سکتا کہ میں نے جو کپڑا دیا ہے اس کا تم نے کوئی بدلہ نہیں دیا۔تو پہلی آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے، چونکہ خدا اور ملائکہ اس رسول پر درود بھیجتے ہیں اس لئے تم بھی بھیجو۔مگر مؤمنوں کے لئے یہی فرمایا کہ ہم اور ملائکہ ان پر درود بھیجتے ہیں۔اس کے ساتھ یہ نہیں فرمایا کہ تم بھی اپنے بھائیوں پر درود بھیجو۔غرض اس آیت سے ثابت ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے ملائکہ کیسا تھ تعلق ہو جاتا ہے۔پس جو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں گے ان کی ملائکہ سے ایک نسبت ہو جائے گی اور اس طرح ان سے تعلق ہے ہو جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ صلحاء نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کو بڑا اعلیٰ عمل قرار دیا ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ دُعا جس میں خدا کی حمد اور مجھ پر درود نہ ہو وہ دُعا قبول نہیں ہوگی (سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ باب الدعاء) اس کا یہی مطلب ہے کہ جس دُعا میں خدا تعالیٰ کی حمد اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ہوگا وہ زیادہ قبول ہوگی۔یا درکھنا چاہئے کہ دنیا میں جو چیزیں ایک طرح کی ہوتی ہیں ان کا آپس میں بہت