مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 548
دجال کے غلبہ کے وقت اُترے گا اور یہ جو ہے کہ جزیہ رکھ دے گا یعنی موقوف کرے گا۔اس صحیح بخاری کی دوسری قرأت یہ ہے کہ یضع الحرب کہ جنگ کو موقوف کرے گا اور وہ کوئی لڑائی نہیں کرے گا اور یہ قرأت صحیح ہے کیونکہ ایک دوسری حدیث اس کی مؤید ہے اور وہ یہ ہے یقع الامنۃ فی الارض عند نزول المسیح یعنی مسیح کے نزول کے وقت بھی امن کی حالت ہو جاوے گی اور کوئی لڑائی نہیں ہو گی۔۹۔اور جو مال کی بابت اعتراض کیا گیا ہے۔البتہ اس کا تو مجھے اقرار کرنا پڑے گا کہ میں نے علماء حال کا بہت نقصان کیا ہے کہ ان کی موہوم امیدیں جو درہم و دینار کے متعلق تھیںسب ٹوٹ گئیں لیکن ذرا زیادہ غور کر کے وہ خود سمجھ جائیں گے کہ یہ امیدیں کسی نص قرآنی اور حدیثی پر مبنی نہ تھیں صرف غلط فہمی تھی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ۱؎ تو کیا مال بیشمار دیکر خدا ان کو فتنہ میں ڈال دے گا اور بجز اس کے ایک حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام درہم اور دینار نہیں چھوڑتے ان کے وارث ان کے علم کے وارث ہوتے ہیں پس ان تمام حدیثوں سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود جو دنیا میں آئے گا وہ ایک روحانی مال عطا کرے گا جس کی دنیا محتاج ہو گی ورنہ مسیح کسی مہاجن سا ہوکار کی صورت میں نہیں آئے گا کہ لوگوں کو اپنی آسامیاں ٹھہرا کر روپیہ تقسیم کرے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کا نام مال رکھا ہے اور حکمت کا نام بھی مال رکھا ہے جیسا کہ فرماتا ہے کہ ۲؎ مفسر لکھتے ہیں کہ اس کے معنے ہیں۔مَالًا کَثِیْرًا لغت میں خیر کے معنے مال کے لکھے ہیں اور ایک اور حدیث میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بڑی دعوت کی اور ہر ایک قسم کا کھانا پکایا تو بعض کھانا کھانے کے لئے آئے انہوں نے کھانا کھا کر حظّ اٹھایا اور بعض نے اس دعوت سے انکار کیا وہ بے نصیب رہے۔اب دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے پلائو اور قورمہ وغیرہ پکایا تھا یا روحانی کھانے تھے۔اصل بات یہ ہے کہ انبیاء اکثر روحانی امور کو طرح طرح کے پیرا یوں میں بیان فرمایا کرتے ہیں اور نفسانی آدمی ان کو جسمانی امور کی طرف لے جاتے ہیں۔بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ مسیح