مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 540 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 540

تکذیب لازم آوے گی حتیّٰ کہ فرعون اور آلِ فرعون کا غرق ہونا بھی کوئی نشان صداقت موسوی کے لئے نہیں ہو سکے گا کیونکہ اکثر جہاز اور کشتیاں غرق ہوتی رہتی ہیں۔الحاصل دارومدار کسی واقعہ کے نشان صداقت مامور من اللہ کے لئے ہونے کا پیشگوئی ہوا کرتی ہے۔جو ویسے ہی واقع ہو جیسا کہ مامور من اللہ نے اس کی خبر دی ہے۔یہ اجتماع خسوف وکسوف دونشان تصدیق مسیح موعود کے لئے ایسے ہی واقع ہوئے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے اور قیامت تک آپ کا نشان ہونا زبانِ خلق پر جاری رہے گا۔فصدق المخبر الصادق فی اخبارہ انھما لم تکونا منذ خلق السمٰوات والارض۔پس تصدیق آپ کے دعویٰ کی عین تصدیق کلام نبوت کی ہے اور تکذیب اس کی عین تکذیب کلام نبوت کی ایضاً فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے اوریاد کرو اس وقت کو کہ اونٹنیاں معطّل کی جاویں گی۔اس آیت کی تفسیر خود کلام نبوت میں مذکور ہے۔جو صحیح مسلم میں باب مسیح بن مریم میں مندرج ہے کہ یترک القلاص فلا یسعٰی علیھا کہ جوان اونٹنیاں متروک کی جاویں گی۔اوران پر دوڑ نہ کی جاوے گی۔یعنی سواری نہ کی جاوے گی۔اب دیکھو کہ ہندوستان میں مدت سے اُونٹنیوں کی سواری بمقابلہ ریل کے متروک ہو ہی گئی ہے۔لیکن عرب میں بھی حجاز ریلوے کے سبب سواری اونٹنیوں کی متروک ہوتی جاتی ہے۔اورقریب تربالکل مسافات بعیدہ تک متروک ہو جاوے گی۔اب غورکرو کہ اس نشان کے پورا کرنے کے لئے اوّل تو گورنمنٹ انگلشیہ نے کیسی جان توڑ کوششیں کی ہیں اور لاکھوں روپیہ اس کی تیاری میں صرف کیا اور الحال گورنمنٹ رومیہ معہ جملہ اہالی اسلام کے حجاز ریلوے وغیرہ کی تیاری میں کیسی مساعی جمیلہ عمل میں لار ہے ہیں۔اب ہمارے مخالفین کو چاہئے کہ اس نشانِ الٰہی کو جس کی خبر قرآن مجید اور حدیث صحیح دونوں میں موجود ہے پورا نہ ہونے دیویں تاکہ اونٹنیاں معطّل اور بیکار نہ ہوویں جس سے تصدیق مسیح موعود کی لازم آتی ہے۔اوراس ریل کی سواری کی خبر متعدد جگہ پر قرآن مجید میں موجود ہے۔کما قال اللہ تعالیٰ  ۔۱؎ ۔۔۲؎