مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 43
لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے بیان فرمودہ ہیں۔اس لئے فیصلہ چاہتا ہوں کہ کونسے معانی صحیح ہیں اور خدا کے بیان فرمودہ معانی کونسے ہیں یعنی وہ معانی ٹھیک ہیں جو مجھے سمجھ آ گئے ہیں اور باقی تفصیل خدا کے حوالے کرتا ہوں اور دوسرے معنوں میںتفاسیر صحیح ہیں کہ ہر صفت کی تاویل کر دی گئی ہے۔فقط۔والسلام العارض غلام محمد افغان مکتوب نمبر۲ (جواب از طرف حضرت امام الزمان سلمہُ الرحمن) السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ واضح باد کہ مذہب ماہمین است کہ درین امر ہیچ دخل نمی بایدداد چرا کہ خدائے تعالیٰ فرمودہ است ۱؎ وآنانکہ دخل دادہ اند آنان اگر خطاکردہ اند ماخوذ بقول خود خواہند شود این قدر کافی است کہ اٰمَنَّا بِہٖ کُلّ مِنْ رَّبِّنَا۔٭ والسلام مرزا غلام احمد ترجمہ از ناشر السلام علیکم ورحمۃ اللہ واضح رہے کہ ہمارا یہی مذہب ہے کہ اس معاملہ میں کوئی دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اور وہ جنہوں نے دخل اندازی کی ہے اگر اُنہوں نے خطا کی ہے اُن کا اپنے قول پران کا مؤاخذہ ہو گا۔اس قدر کافی ہے کہ اٰمَنَّا بِہٖ کُلّ مِنْ رَّبِّنَا۔والسلام مرزا غلام احمد ۱؎ الانعام : ۱۰۴ ٭ الحکم نمبر۴۶ جلد۱۱ مورخہ ۲۴؍دسمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۰