مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 42

ترجمہ از ناشر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ بخدمت جناب حضور حضرت اقدس مسیح موعود ومہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بندہ عاجز کی عرض یہ ہے کہ خود اس عاجز نے جناب حضور مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے بیان کے بارہ میں لکھا تھا مثل وجہ اللّٰہ۔ونور۔ومحیط۔ونحن اقرب۔وھو معھم۔این ماکانوا۔اور حضور علیہ السلام کی طرف سے ایسا جواب با صواب آیا ’’کہ وہ جو اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے فرمایا ہے اُس پر ایمان لے آئیں اور اُس کی تفاصیل کو حوالہ بخدا کریں‘‘ الغرض میں فرمودہ اللہ تعالیٰ کے مطابق ایمان لایا اور اُس کی تفصیل بحوالہ خدا کرتا ہوں اور کردی ہے لیکن میرا مطلب صرف خدا تعالیٰ کے فرمودات پر ایمان رکھتے ہوئے یہی ہے کہ وہ جو اللہ جل شانہٗ نے فرمایا ہے مثلاً ۔۔ٌ۔ الخ  الخ۔   ۔اس بندہ کے نزدیک لغت کے لحاظ سے مکتوبہ آیات کے معانی اس طرح ہیں۔خدا کا چہرہ۔خدا آسمانوں کا نور ہے اور زمین کا نور ہے۔خبردار! اس نے ہرچیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ہم نزدیک ہیں وہ اوّل ہے اور وہ آخر ہے اور وہ ظاہر ہے اور پوشیدہ ہے۔نہیں کوئی گروہ مگر وہ اُن کا چوتھا ہے اور نہ پانچ مگر وہ اُن کا چھٹا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ مگرخدا اُن کے ساتھ ہے جس جگہ بھی ہوں۔اس کی تفصیل کے متعلق علم حاصل کرنااور ان کی حقیقت کوخدا کے حوالے کرتا ہوں کیونکہ جیسا کہ وہ بے مثل ہے اسی طرح اُس کی ہر صفت بے مثل ہے۔الغرض مسیح موعود علیہ السلام سے معانی کی درخواست اس غرض سے کرتا ہوں کہ مفسرین کچھ اور کہتے ہیں مثلاً وجہ سے توجہ اور نور سے بدر اور اس کے احاطہ سے اس کے احاطۂ علم اور اس کے قرب سے اُس کی قدرت کا قرب اور ظاہر سے غالب اور معی سے اس کے علم کی معیت مراد