مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 496 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 496

کورونقِ حقیقت بخشنا تو بت پرستوں کا شیوہ ہے۔مولانامولوی رومی فرماتے ہیں: مَیں عبادت میں توبہ قبول کرنے والے جہاںکے ربّ سے ویسی ہی استعانت کا طلبگار ہوں جیسی کفا ر بتوں سے مانگتے ہیں۔یہ شعر آیتکاترجمہ ہے۔حاجت کا اندازہ اور حاجتمند کا قیاس۔حاجتمند(مولانا مولوی رومی) تو خود اللہ تعالیٰ سے کشفِ انوارِ حقایق کی غرض سے اللہ تعالیٰ سے استعانت کے خواستگار ہوتے ہوئے بیت ثانی میں فرماتے ہیں: جو ہم پرغم سے گزری اگراونٹ پرگزرتی تو کافرجَنّۃُ الماویٰ پرَ علمَ نصب کردیتے۔ظاہر ہے کہ انسان تصوّر میں ایک شعلہ کی بجائے ہزار شعلے قائم کر سکتا ہے کونسی مشکل آن پڑی ہے(کہ ایک پر ہی بس کرے۔مترجم)۔کیونکہ نہ روح کو احساسِ درد ہے نہ دل کو جلنے کی تکلیف۔جعل و فریب کے راستے کھلے ہیں ایک شعلہ تک محدود نہیں مگر اہل اسلام کی عبادات اپنے اوپرموت وارد کرلینا ہے کہ عاشق صادق اور متلاشی کو اس یار حقیقی کی تلاش میں اندر اور باہر اپنے دل کو ظلمات کے دریا سے آشنا کرنا اور روح و تن کودرد وغم میں پگھلانا اور آنکھوں سے نینداڑا دینا اور روح ودل کابے قراریوں میں مستغرق کرنا اس راہ میں جلنا اور چارہ جوئی کرنااور درحقیقت غموں کے پہاڑ اٹھانا اور دل مہجور سے ہائے ہائے کی آواز نکلنا اور مرنے سے پہلے مرنا اور بیکراں غم و درد کاپیکرہوجانا ہے۔غرض یہ کہ میں کیونکران کیفیات کو تحریر کروں۔پس اس عادل ومقدس نے دلوں کا دلوں سے تعلق رکھاہے کیا وہ اپنے ایسے طالب سے بیخبرہوگا؟کیا و ہ اپنے ہاتھ کو دراز کرکے اس طرح کے جانبازبندہ کو اپنی طرف نہیں کھینچے گا؟پس اب منصف مزاج از خود تأمل کرے کہ عشق و محبت و دردمندی کا یہ طریق کہ روح ودل کو جلوہ انوارِحقیقی کی آرزو میں جلانا اور خودکو رنج و تکلیف سے دوچار کرنا حق و راست ہے یا وہ طریق کہ اپنے دجل وفریب سے دل میں ایک شعلے کا تصور باندھنا جس سے نہ روح میں احتراق ہے اورنہ ہی دل میں سوزوگداز۔ظاہر ہے کہ اس شعلہ کی اصل دروغ و باطل پرہے کیونکہ خدا تعالیٰ ہمارے تصور کا تابع نہیں اور نہ ہی ذات محیط السّماوات انسان کے تصور میں سما سکتی ہے۔پس وہ قلبی عبادت جو رَبُّ الْعَالَمِیْنکو زیباہے اس میں شعلہ کاکام قراردینا کفرہے۔اب میں چاہتا